LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
متحدہ عرب امارات کے قریب بحری جہاز پر پروجیکٹائل حملہ، جہاز میں آگ لگ گئی جے یو آئی کی مرکزی کور کمیٹی کا اجلاس، سیاسی صورتحال پر غور امریکا میں سمندری طوفان ایسیاس شدت اختیار کرنے لگا، کیٹیگری 3 میں تبدیل ہونے کا امکان سعودی عرب اور حوثیوں میں کشیدگی، اردن میں امریکی شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ جاری بلاول بھٹو کا پی ٹی آئی کو انتہاپسندی کی سیاست ترک کرنے کا مشورہ اسد قیصر کا فضل الرحمان سے رابطہ آل پارٹیز کانفرنس کیلئے تھا: شوکت یوسفزئی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 10 سے 14 اکتوبر تک بارشوں کی پیشگوئی پی آئی اے کے بیڑے میں جدید ترین بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے شامل کرنے کا معاہدہ دھرنوں، احتجاج سے کاروبار، تعلیمی سرگرمیاں اور معیشت متاثر ہوتی ہے: سپیکر پنجاب اسمبلی وزیر خزانہ کی نیدرلینڈز کے کاروباری وفد سے ملاقات، سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال فیصل کریم کنڈی کا سہیل آفریدی کو مستعفی ہونے کا مشورہ، لانگ مارچ پر تنقید چیف جسٹس پاکستان کی بار نمائندگان سے مشاورتی نشست، ڈیجیٹل عدالتی اصلاحات پر بریفنگ حافظ نعیم الرحمان کا مفت تعلیم کے حق میں تحریک شروع کرنے کا اعلان ٹرمپ پھر محروم، امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقا کی خاتون وکیل کے نام مکہ معاہدہ خطے میں استحکام کی ضمانت، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج

یورپی یونین کا روس کیخلاف 22واں پابندی پیکیج، 1500 سے زائد افراد اور کمپنیاں نشانے پر

Web Desk

9 October 2026

یورپی یونین (EU) کے سفیروں نے روس کے خلاف پابندیوں کے 22ویں تاریخی پیکیج پر حتمی اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت روس کے دفاعی و تکنیکی شعبے سے منسلک 1500 سے زائد افراد اور کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ یوکرین میں روس کے خصوصی عسکری آپریشن کے آغاز کے بعد سے کسی ایک پیکیج کے تحت اتنی بڑی تعداد میں افراد و اداروں کو بلیک لسٹ کرنے کا یہ سب سے بڑا اقدام ہے، جس سے یورپ کی موجودہ روسی بلیک لسٹ میں تقریباً 50 فیصد کا نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔

یورپی ذرائع کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والے اداروں اور شخصیات پر یورپی یونین میں داخلے کی پابندی اور ان کے تمام اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے، جبکہ یورپی شہریوں و کمپنیوں کو ان کے ساتھ کاروبار سے روک دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایسٹونیا نے سٹریٹجک اہمیت کے مواد کی فراہمی کے پیشِ نظر ایک روسی کمپنی کو عارضی استثنیٰ دینے کی درخواست کی ہے، جبکہ لتھوانیا نے روسی غذائی اجناس کی یورپی راہداریوں سے ترسیل پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔