LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ پھر محروم، امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقا کی خاتون وکیل کے نام مکہ معاہدہ خطے میں استحکام کی ضمانت، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج ٹرمپ ایران پر نئے حملوں کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں: نیویارک ٹائمز بچوں کے خون سے سودا کرنے والوں سے کیا مذاکرات کریں: دانیال چودھری پاکستان اور ویٹیکن کا بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر اتفاق ماہ ستمبر 2026 کے دوران ملک میں 5 ہزار 241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ سہیل آفریدی کا شارٹ مارچ دہشتگرد تنظیموں کے حق میں ہے: عظمیٰ بخاری ہر مصیبت برداشت کرنے کو تیار، اصولوں پر سمجھوتا نہیں ہوگا: سلمان اکرم راجہ خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا علیمہ خان کیخلاف کیس کا فیصلہ پھر مؤخر، سہیل آفریدی کی درخواست پر سماعت ملتوی پاکستان اور بحرین کا تجارت، توانائی اور زراعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق مریم نواز کا پنجاب کے ہر ضلع میں پی ایچ اے قائم کرنے کا فیصلہ شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، فتنہ الخوارج کے 7 دہشت گرد ہلاک وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور

Web Desk

8 October 2026

امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ اور برطانوی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شام سعودی عرب کی خصوصی درخواست پر یمن میں ممکنہ فوجی تعاون کے مختلف آپشنز پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق زیرِ غور تجاویز میں دفاعی تعاون سے لے کر حوثیوں کے خلاف برسرِ پیکار یمنی فورسز کی مدد کے لیے شامی اہلکاروں کی ممکنہ تعیناتی تک کے اقدامات شامل ہیں۔

ایک امریکی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ ریاض نے دمشق سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں تعاون کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ شام کے عبوری سربراہ احمد الشرع نے حال ہی میں ریاض کا دورہ کیا تھا جہاں ان کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اہم ملاقات ہوئی۔ تین امریکی حکام کے مطابق شامی صدر احمد الشرع اس سعودی درخواست پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور امکان ہے کہ وہ اسے قبول کر لیں گے۔ دوسری جانب شامی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ شام اس وقت اپنی اندرونی بحالی پر گامزن ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ فوجی تعاون یا مہارت کے تبادلے کی صورت میں دونوں ممالک کے دوطرفہ معاہدوں کے تحت عمل کیا جائے گا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق شام کی کسی بھی ممکنہ شمولیت سے اس علاقائی تنازع کے اثرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں