LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کے شہر ارکتسک میں محقق کی ہلاکت: طاعون کے پھیلاؤ اور لیبارٹری حادثے کے تمام دعوے مسترد روسی صدر کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، علاقائی بحران کے حل میں مدد کی پیشکش برطانیہ میں امریکی اہلکاروں کے زیر استعمال ایئر بیس میں داخلے پر 2 افراد گرفتار امریکی خصوصی نمائندے سٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر کی آج یوکرینی حکام سے ملاقات طے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 اہلکار زخمی حوثیوں کے حملے، متعدد بین الاقوامی کمپنیوں کی سعودیہ کیلئے پروازیں معطل یورپی یونین کا بحیرہ احمر میں جہازوں کی حفاظت کیلئے بحری مشن مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ امریکا کا وینزویلا کے معزول صدر نکولس اور انکی اہلیہ پر امریکی شہریوں پر تشدد کی سازش کا الزام فرانس میں تعلیمی نظام کی ناقص صورتحال کیخلاف طلبہ کا ملک گیر احتجاج تیسرے ہفتے داخل ادب کا نوبیل انعام شاعرہ اور مضمون نگار این کارسن کے نام یوکرین کے روس میں 20 سے زائد علاقوں پر ڈرون حملے، 399 ڈرون تباہ روس کا مغربی یورپ کے ساتھ مسلح تنازع شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، ماریہ زخارووا یورپی یونین کا روس کیخلاف 22واں پابندی پیکیج، 1500 سے زائد افراد اور کمپنیاں نشانے پر امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، 17 بحری جہاز بھی فہرست میں شامل یوکرین میں مسافر بسوں پر روسی گلائیڈ بم حملے، 30 افراد ہلاک

روس میں طاعون کے دوسرے مشتبہ کیس کی اطلاعات، عالمی برادری شدید تشویش میں مبتلا

Web Desk

7 October 2026

روس کے خطے سائبیریا کے شہر ارکوتسک (Irkutsk) میں واقع طاعون کے تحقیقی ادارے سے وابستہ 28 سالہ خاتون لیبارٹری ٹیکنیشن کی ہلاکت اور دیگر ملازمین کی علالت سے متعلق رپورٹس کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO)، امریکہ اور یورپی یونین نے صورتحال کی حساسیت کے پیشِ نظر روس سے شفاف معلومات اور حقائق شیئر کرنے کا باضابطہ مطالبہ کیا ہے، جبکہ پڑوسی ملک منگولیا نے روسی سرحد پر ہیلتھ مانیٹرنگ اور طبی نگرانی کے اقدامات سخت کر دیے ہیں।

روسی صحتِ عامہ کے ادارے ‘روس پوٹریب ناڈزور’ (Rospotrebnadzor) اور صحت حکام نے ان خبروں کو غلط معلومات قرار دیتے ہوئے طاعون کا بائیولوجیکل خطرہ رد کر دیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق متوفیہ خاتون کی موت کسی خطرناک جراثیم کی برآمدگی کے بجائے ‘غیر معین نوعیت کے نمونیا’ (Pneumonia of unknown etiology) سے ہوئی ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ لیبارٹری ٹیسٹوں میں خطرناک وائرس یا طاعون کے جراثیم کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی دستیاب ڈاٹا کی روشنی میں ارکوتسک کے لیے خطرے کی سطح درمیانے سے کم جبکہ یورپ اور عالمی سطح کے لیے انتہائی کم قرار دی ہے۔