LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سہیل آفریدی کا شارٹ مارچ دہشتگرد تنظیموں کے حق میں ہے: عظمیٰ بخاری ہر مصیبت برداشت کرنے کو تیار، اصولوں پر سمجھوتا نہیں ہوگا: سلمان اکرم راجہ خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا علیمہ خان کیخلاف کیس کا فیصلہ پھر مؤخر، سہیل آفریدی کی درخواست پر سماعت ملتوی پاکستان اور بحرین کا تجارت، توانائی اور زراعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق مریم نواز کا پنجاب کے ہر ضلع میں پی ایچ اے قائم کرنے کا فیصلہ شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، فتنہ الخوارج کے 7 دہشت گرد ہلاک وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز سعودی عرب کی سلامتی کیلئے پُرعزم، حوثی ملیشیا حملے فوری بند کر دے: وزیراعظم سابق امریکی میجر کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت براہِ راست نشر ہوگی: پینٹاگون پی ٹی آئی سے مذاکرات میں بڑے بریک تھرو کی زیادہ امید نہیں: رانا ثناء اللہ دشمن سے طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے: ایران آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں زوردار دھماکوں کی اطلاعات

افغانستان میں تبدیلی ناگزیر اور بہت قریب ہے،گلبدین حکمت یار

Web Desk

7 October 2026

افغانستان کے سابق وزیراعظم اور حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے افغان طالبان کی موجودہ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے ملک میں فوری طور پر اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے। حامیوں سے آن لائن خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سیاسی تبدیلی ناگزیر اور انتہائی قریب ہے، کیونکہ جس طرح ماضی میں سوویت یونین اور امریکہ کی زیرِ سرپرستی قائم ہونے والی حکومتیں زیادہ دیر قائم نہ رہ سکیں، اسی طرح طالبان کا موجودہ نظام بھی زیادہ عرصے نہیں چل سکے گا۔

گلبدین حکمت یار نے کہا کہ قومی و خارجہ پالیسی، بجٹ، اور جنگ و امن سے متعلق تمام اہم فیصلے منتخب اداروں اور عوامی کونسل کے ذریعے ہی کیے جانے چاہئیں۔ طالبان کو متنبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب آپ اپنے مخالفین کو برداشت نہیں کر سکتے اور ان کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں چھوڑتے، تو پھر یہی اصول آپ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ سابق وزیراعظم نے نشاندہی کی کہ طالبان حکومت شدید سیاسی تنہائی کا شکار ہے اور اس کے سابقہ حامی ممالک بھی اب ان کے ساتھ مکمل ہم آہنگ نہیں ہیں، جبکہ افغان عوام اس وقت شدید بے روزگاری، بدامنی اور غربت جیسے سنگین مسائل کی چکی میں پس رہے ہیں۔