LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سموگ اور فوگ کا خدشہ: بلدیاتی الیکشن اپریل 2027 میں کرانے کی تجویز ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: قطر پاکستان کی سفارتی کامیابی، اقوام متحدہ میں پانی سے متعلق قرارداد منظور بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر مریم نواز سے عمانی وزیر کی ملاقات، ”اپنی چھت، اپنا گھر“ منصوبے میں دلچسپی خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ امریکی سٹاک مارکیٹ میں تیزی، سرمایہ کاروں کی توجہ تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج پر مرکوز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل اور ابہا کے ائیرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے: حوثی ملیشیا دبئی: بیوٹی ورلڈ مڈل ایسٹ 2026ء کی نمائش میں پاکستان پویلین کا افتتاح امریکا کا کرس مرفی کو العدید ایئربیس تک رسائی دینے سے انکار آبنائے ہرمز مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے: ایرانی فوج کا پھر دعویٰ فیئر فورڈ ایئربیس سے برطانوی نوجوان گرفتار

سائبیریا میں سائنسی تجربہ گاہ میں خاتون محقق کی ہلاکت، علاقے میں شدید خوف و ہراس

Web Desk

5 October 2026

سائبیریا کی ایک انتہائی حساس سائنسی لیبارٹری میں 28 سالہ خاتون محقق داریا شوپیلووا (Darya Shopilova) کی ناگہانی ہلاکت کے بعد خطے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جس کے نتیجے میں حکام نے بڑے پیمانے پر قرنطینہ نافذ کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 2 اکتوبر 2026ء کو انتقال کرنے والی سائنس دان نے موت سے قبل ہسپتال کے عملے کو بتایا تھا کہ لیبارٹری میں تحقیق کے دوران ان سے ایک ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹ گئی تھی، جس میں طاعون (Plaque) کا انتہائی خطرناک اور زندہ حیاتیاتی نمونہ موجود تھا۔

اگرچہ روسی محکمہ صحت نے باضابطہ طور پر طاعون کی تصدیق کرنے کے بجائے اسے “غیر معمولی اور نامعلوم قسم کا نمونیا” قرار دیا ہے، تاہم مقامی سطح پر ہنگامی احتیاطی تدابیر اختیار کر لی گئی ہیں۔ وائرس یا بافتوں کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے خاتون کے قریبی ساتھیوں اور طبی عملے سمیت 200 سے زائد افراد کو فوری طور پر قرنطینہ (Quarantine) کر کے طبی نگرانی میں لے لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قریبی صنعتی و ایلومینیم پلانٹس کے ملازمین کے لیے ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور امریکی صحت کے حکام نے ممکنہ وبائی خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس واقعے کی قریبی نگرانی شروع کر دی ہے۔