LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغانستان میں آزادی پسندوں کی کارروائیاں تیز، قندھار اور ہلمند میں طالبان نشانے پر ملک میں بجلی ایک روپے 11 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی، نوٹیفکیشن جاری دوسرے ملازم میں نمونیا کی غیر مصدقہ اطلاع، روس نے طاعون کی وبا کا امکان مسترد کردیا پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کا سٹاف لیول معاہدہ طے خیبرپختونخوا میں گورنر راج نہیں نالائق حکومت مسلط ہے: فیصل کریم کنڈی سائبیریا میں طاعون کے مشتبہ کیس کی مانیٹرنگ شروع، ہر خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: امریکی CDC جنگ میں بے گھر لبنانیوں کی مدد کیلئے حزب اللہ کو ایران سے 20 کروڑ ڈالر موصول حوثیوں کے سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کی دھمکیاں، امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت روس کے یوکرین پر میزائل اور ڈرون حملے، بچوں سمیت 28 افراد ہلاک لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری امن فوج کی چوکی پر فائرنگ عالمی مالیاتی فنڈز کا جنگ سے متاثرہ یمن کیلئے 18 ماہ کا پروگرام منظور شام حوثیوں کیخلاف لڑنے کیلئے یمن میں اپنی فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے، امریکی نیوز ویب سائٹ روس میں طاعون کے دوسرے مشتبہ کیس کی اطلاعات، عالمی برادری شدید تشویش میں مبتلا روسی صدر پیوٹن نے امریکا سے کشیدگی کم کرنے کیلئے ایران کو معاونت کی پیشکش کر دی افغانستان میں تبدیلی ناگزیر اور بہت قریب ہے،گلبدین حکمت یار

تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوگئے، آرامکو سربراہ کا انتباہ

Web Desk

5 October 2026

سعودی عرب کی قومی آئل کمپنی آرامکو کے سربراہ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر امین ناصر نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں شدید کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کے تجارتی اور اسٹریٹجک ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔ لندن میں منعقدہ ’2026ء انرجی انٹیلی جنس فورم‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ عالمی توانائی کا نظام اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال ہونے اور مارکیٹ کا اعتماد بحال ہونے تک دنیا مزید کسی بھی سپلائی کے جھٹکے کو برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

امین ناصر نے انکشاف کیا کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان سات ماہ سے جاری اس کشیدگی کے نتیجے میں خطے سے تقریباً 3 ارب بیرل تیل کی معمول کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے دنیا بھر کے تجارتی ذخائر سے ایک ارب بیرل سے زائد اور حکومتوں کے اسٹریٹجک ریزرو (SPR) سے 30 کروڑ بیرل سے زائد تیل مارکیٹ میں لایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت دنیا میں تجارتی بنیادوں پر موجود 6 ارب بیرل سے کم ذخائر کا صرف 10 فیصد حصہ ہی واقعی فوری طور پر دستیاب ہے۔ آرامکو سربراہ نے خبردار کیا کہ ہنگامی ذخائر جاری کرنا عارضی تدبیر ہے جو بنیادی عدم توازن ختم نہیں کر سکتی، اور ان ذخائر کو دوبارہ معمول کی سطح پر لانے کے لیے کم از کم دو سال کا عرصہ درکار ہوگا۔