تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوگئے، آرامکو سربراہ کا انتباہ
Web Desk
5 October 2026
سعودی عرب کی قومی آئل کمپنی آرامکو کے سربراہ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر امین ناصر نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں شدید کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کے تجارتی اور اسٹریٹجک ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔ لندن میں منعقدہ ’2026ء انرجی انٹیلی جنس فورم‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ عالمی توانائی کا نظام اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال ہونے اور مارکیٹ کا اعتماد بحال ہونے تک دنیا مزید کسی بھی سپلائی کے جھٹکے کو برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
امین ناصر نے انکشاف کیا کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان سات ماہ سے جاری اس کشیدگی کے نتیجے میں خطے سے تقریباً 3 ارب بیرل تیل کی معمول کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے دنیا بھر کے تجارتی ذخائر سے ایک ارب بیرل سے زائد اور حکومتوں کے اسٹریٹجک ریزرو (SPR) سے 30 کروڑ بیرل سے زائد تیل مارکیٹ میں لایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت دنیا میں تجارتی بنیادوں پر موجود 6 ارب بیرل سے کم ذخائر کا صرف 10 فیصد حصہ ہی واقعی فوری طور پر دستیاب ہے۔ آرامکو سربراہ نے خبردار کیا کہ ہنگامی ذخائر جاری کرنا عارضی تدبیر ہے جو بنیادی عدم توازن ختم نہیں کر سکتی، اور ان ذخائر کو دوبارہ معمول کی سطح پر لانے کے لیے کم از کم دو سال کا عرصہ درکار ہوگا۔
متعلقہ عنوانات
افغانستان میں آزادی پسندوں کی کارروائیاں تیز، قندھار اور ہلمند میں طالبان نشانے پر
8 October 2026
ملک میں بجلی ایک روپے 11 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی، نوٹیفکیشن جاری
8 October 2026
دوسرے ملازم میں نمونیا کی غیر مصدقہ اطلاع، روس نے طاعون کی وبا کا امکان مسترد کردیا
8 October 2026
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کا سٹاف لیول معاہدہ طے
8 October 2026
خیبرپختونخوا میں گورنر راج نہیں نالائق حکومت مسلط ہے: فیصل کریم کنڈی
8 October 2026
سائبیریا میں طاعون کے مشتبہ کیس کی مانیٹرنگ شروع، ہر خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: امریکی CDC
8 October 2026
جنگ میں بے گھر لبنانیوں کی مدد کیلئے حزب اللہ کو ایران سے 20 کروڑ ڈالر موصول
7 October 2026
حوثیوں کے سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کی دھمکیاں، امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت
7 October 2026