LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز صدر اور وزیراعظم کا قوم کی تعمیر میں اساتذہ کے کردار کو خراج تحسین سری لنکن کرکٹ ٹیم کی پاکستان کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے پاکستان آمد اچھا استاد معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کی بنیاد رکھ سکتا ہے: مریم نواز یمنی وزیر خارجہ کی حوثی ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کیلئے عالمی حمایت کی اپیل ماہ ستمبر میں جنوبی بلوچستان سے 435 غیر قانونی افغان باشندے گرفتار اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دورۂ پاکستان، صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم سے ملاقاتیں متوقع مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج، علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا امریکا نے برطانوی فوجی اڈے سے اپنے تمام بمبار طیارے ہٹا لیے سرکاری حج سکیم کے تحت دوسری قسط کی وصولی کا آغاز 7 اکتوبر کے حملے ہماری ناکامی تھے، سبق سیکھنا ہوگا: سربراہ اسرائیلی فوج دبئی میں بزرگ شہریوں کیلئے نئے ہیریٹیج ولیج منصوبے کا باقاعدہ آغاز حوثی ملیشیا سعودی تنصیبات پر حملے، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ امریکی سینیٹر کرس مرفی کا ایران کیساتھ سفارتی ڈیل پر توجہ دینے پر زور پاکستان کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

7 اکتوبر کے حملے ہماری ناکامی تھے، سبق سیکھنا ہوگا: سربراہ اسرائیلی فوج

Web Desk

5 October 2026

اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے 7 اکتوبر 2023ء کے حملے کو عسکری اور دفاعی سطح پر اپنی فوج کی شدید ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح افواج کو ان تاریخی ناکامیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔ اپنے ایک باضابطہ بیان میں لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے اعتراف کیا کہ 7 اکتوبر 2023ء کا دن اسرائیلی فوج کے لیے ایک گہری اور ناقابلِ تردید ناکامی کا دن تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 7 اکتوبر کے واقعات سے متعلق فوج کی جانب سے کی جانے والی تمام اندرونی و عسکری تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں اور ان رپورٹس سے تباہی اور ناکامی کی حقیقی شدت کا واضح اندازہ ہوا ہے۔

لیفیٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ماضی کی غلطیوں اور ناکامیوں میں الجھنے کے بجائے ان سے حاصل ہونے والے اسباق پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عسکری شعبے میں بنیادی اصلاحات کا فوری نفاذ اور آئندہ کے لیے سیکورٹی نظام کو مضبوط بنا کر آگے بڑھنا ہی افواج کے لیے سب سے اہم اور ضروری قدم ہے۔