LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدالت کا بانی پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم، فرخ حبیب و دیگر اشتہاری قرار گورنر راج اچھا فیصلہ نہیں، آخری حد پر نہیں جانا چاہتے: امیر مقام ریاست مخالف پروپیگنڈے کے خلاف این سی سی آئی اے کے خصوصی یونٹس قائم پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز صدر اور وزیراعظم کا قوم کی تعمیر میں اساتذہ کے کردار کو خراج تحسین سری لنکن کرکٹ ٹیم کی پاکستان کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے پاکستان آمد اچھا استاد معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کی بنیاد رکھ سکتا ہے: مریم نواز یمنی وزیر خارجہ کی حوثی ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کیلئے عالمی حمایت کی اپیل ماہ ستمبر میں جنوبی بلوچستان سے 435 غیر قانونی افغان باشندے گرفتار اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دورۂ پاکستان، صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم سے ملاقاتیں متوقع مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج، علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا امریکا نے برطانوی فوجی اڈے سے اپنے تمام بمبار طیارے ہٹا لیے سرکاری حج سکیم کے تحت دوسری قسط کی وصولی کا آغاز 7 اکتوبر کے حملے ہماری ناکامی تھے، سبق سیکھنا ہوگا: سربراہ اسرائیلی فوج دبئی میں بزرگ شہریوں کیلئے نئے ہیریٹیج ولیج منصوبے کا باقاعدہ آغاز

سعودی و یمنی افواج نے حوثیوں کیخلاف فوجی کارروائی کا منصوبہ بنا لیا

Web Desk

4 October 2026

سعودی عرب اور یمن کی مسلح افواج نے حوثی باغیوں کے خلاف مشترکہ اور وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی کا تفصیلی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اس عسکری منصوبے کے تحت باب المندب کے اسٹریٹجک علاقوں پر محدود کارروائیوں کے ساتھ ساتھ البیضا، مارب، تعز اور الجوف کے صوبوں میں مختلف محاذوں پر بڑے پیمانے پر حملے کیے جائیں گے۔

منصوبے کے مطابق سعودی عرب کی نگرانی میں ایک لاکھ سے زائد یمنی فوجی زمینی پیش قدمی کریں گے، جبکہ سعودی ایئر فورس فضائی حملوں سے ان کی پیش قدمی کو کور فراہم کرے گی۔ یہ آپریشن آنے والے چند ہفتوں میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ اس کارروائی کا بنیادی مقصد باب المندب کی آبنائے اور بحیرہ احمر کے اہم ترین تجارتی بحری راستوں کا کنٹرول حوثیوں سے واپس حاصل کرنا ہے۔ امریکا اس مشن کے لیے پہلے ہی سعودی عرب کو اہم انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہا ہے، جبکہ یورپی اور علاقائی ممالک کی جانب سے دفاعی امداد فراہم کی جا رہی ہے، تاہم ان اتحاد یوں کے براہِ راست عسکری حصے دار بننے کی توقع نہیں ہے۔