LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے وفد کی ملاقات، حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان ملاقات، تمام بات چیت راز میں رکھنے پر زور جماعت اسلامی نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا اعلان کردیا اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت حکومت اور اپوزیشن ارکان کا اہم جرگہ، سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری پیٹرول سبسڈی اور گیس کمپنیوں کے واجبات پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ڈیڈلاک برقرار علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی سربراہی میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کی شاہد خاقان عباسی سے ملاقات، اے پی سی میں شرکت کی دعوت مدینہ منورہ پر حملہ عالم اسلام کے دل اور عقیدے پر حملہ ہے، مسلم حکمران مصلحتیں بالائے طاق رکھ کر مضبوط اتحاد قائم کریں: مولانا فضل الرحمان کرک میں گیس کنکشن کرتے ہوئے دھماکہ، مکان کا ایک حصہ منہدم، 4 افراد جاں بحق پاکستان کی مدینہ پاور سٹیشن پر حوثی حملے کی مذمت، سعودیہ سے اظہارِ یکجہتی طلبہ وفد کا واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کا دورہ، سفارتی کردار میں اظہار دلچسپی مدینہ پاور سٹیشن پر حوثی حملے کے بعد یمنی فوج کی دارالحکومت صنعا میں کارروائی اماراتی پرواز واقعہ میں ایران ملوث ہوا تو اسے بہت سخت نشانہ بنایا جائے گا: ٹرمپ امریکی ریاست نیو جرسی کی مارلبورو ٹاؤن شپ پر مسجد کی تعمیر سے انکار پر وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان مذاکرات آج ہوں گے حوثی ملیشیا کے 2 میزائل، 4 ڈرونز فضا میں ہی تباہ کر دیئے: ترجمان اتحادی افواج

پیٹرول سبسڈی اور گیس کمپنیوں کے واجبات پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ڈیڈلاک برقرار

Web Desk

2 October 2026

اسلام آباد میں پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی اور گیس سیکٹر کے مالیاتی امور پر حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات میں اہم امور پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ایندھن پر سبسڈی مکمل طور پر ختم کرکے صرف ہدفی ریلیف دینے پر اصرار کیا ہے، جبکہ حکومت نے موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے فیول ریلیف اسکیم فوری ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تین ماہ کی اس فیول سبسڈی کی لاگت 75 ارب روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ درآمدی پیٹرول کی قیمت تقریباً 250 روپے ہے جو صارفین کو 390 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے، جس میں تقریباً 110 روپے فی لیٹر ٹیکس اور 27 روپے مختلف مارجنز شامل ہیں۔ دوسری جانب گیس کمپنیوں کے 1.4 ٹریلین روپے کے قابل وصول واجبات معاف کرنے کے معاملے پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے جبکہ گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا حجم 3.6 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے۔ حکومت نے او جی ڈی سی، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل کے 850 ارب روپے کے اضافی منافع اور ٹیرف ڈیفرنس کلیمز کے ذریعے قرضہ نمٹانے کی تجویز پیش کی ہے، تاہم آئی ایم ایف نے اسے مالی طور پر غیر جانبدار نہ قرار دیتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس کے باوجود آئی ایم ایف نے گیس سیکٹر میں اصلاحات اور گیس چوری میں کمی کی کوششوں کو سراہا ہے جبکہ گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے انتظامی منصوبے پر تفصیلی اجلاس آئندہ ہفتے متوقع ہے۔