LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
طلبہ وفد کا واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کا دورہ، سفارتی کردار میں اظہار دلچسپی مدینہ پاور سٹیشن پر حوثی حملے کے بعد یمنی فوج کی دارالحکومت صنعا میں کارروائی اماراتی پرواز واقعہ میں ایران ملوث ہوا تو اسے بہت سخت نشانہ بنایا جائے گا: ٹرمپ امریکی ریاست نیو جرسی کی مارلبورو ٹاؤن شپ پر مسجد کی تعمیر سے انکار پر وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان مذاکرات آج ہوں گے حوثی ملیشیا کے 2 میزائل، 4 ڈرونز فضا میں ہی تباہ کر دیئے: ترجمان اتحادی افواج ٹرمپ کے ایرانی فوج کے مکمل تباہ ہونے کے بیان میں کوئی صداقت نہیں: مجید ابن رضا ڈیزل کی قیمتیں ایک سال تک معمول پر نہیں آسکیں گی: امریکی کمپنیوں نے خبردار کر دیا امریکا میں ہاؤسنگ قرضوں کی شرح 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ایران میں غیر ملکی کرنسیوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر ریکارڈ اضافہ معاون پائلٹ نے طیارے کے کپتان پرحملہ کیا، سعودی اور اماراتی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ایرانی میڈیا نے اماراتی طیارے کے واقعہ کو ’’فالزفلیگ‘‘ کارروائی قرار دیدیا پوری دنیا ایرانی قوم کی ہمت، بہادری اور استقامت پر حیران ہے: صدر پیوٹن امریکا کا مشرق وسطیٰ میں 10 ہزار اضافی فوج بھیجنے کا فیصلہ سینٹ پیٹرزبرگ کے تاریخی بریمر ہاؤس میں خوفناک آتشزدگی، 2 ہزار مربع میٹر رقبہ متاثر

معاون پائلٹ نے طیارے کے کپتان پرحملہ کیا، سعودی اور اماراتی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف

Web Desk

2 October 2026

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے کی جانے والی مشترکہ ابتدائی تحقیقات میں فلائی دبئی کی پرواز کے حادثے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق فضا میں پرواز کے دوران معاون پائلٹ نے اچانک طیارے کے کپتان پر حملہ کر دیا تھا۔ دورانِ پرواز دونوں پائلٹوں کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپ کے نتیجے میں دونوں زخمی ہو گئے تھے، جس کے بعد طیارے کو تبوک ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ کرنی پڑی اور دونوں کو فوری طبی امداد کے لیے تبوک کے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

طبی امداد ملنے کے بعد اور حالت بہتر ہونے پر دونوں پائلٹس کو تبوک سے ابوظہبی روانہ کر دیا گیا ہے۔ اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ ابوظہبی پہنچنے کے بعد حملہ کرنے والے معاون پائلٹ اور کپتان دونوں سے واقعے کے پیچھے چھپے اسباب، محرکات اور تفصیلی حقائق جاننے کے لیے مزید قانونی و تفتیشی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔