LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاسداران انقلاب کا چابہار بندرگاہ کے قریب مبینہ دہشت گرد سیل تباہ کرنے کا دعویٰ حماس کی مالی معاونت کا الزام: امریکا نے 5 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں جی سیون ممالک نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیلئے اتفاق کر لیا: فرانسیسی صدر برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ، 2 پاؤنڈ فی لٹر تک پہنچ گئی سیہون شریف: گیس پائپ لائن پھٹنے سے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام، برطانیہ میں 2 ایرانی شہریوں پر فرد جرم عائد فرانس میں طلبا کا پرتشدد احتجاج، درجنوں سکول بند، پولیس سے جھڑپیں، کئی طالبعلم زخمی بلاول بھٹو کا حکومت اور اپوزیشن میں ملاقات کا خیر مقدم مونال ریسٹورنٹ گرانے کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز کے فیصلے پر نظرثانی کا تفصیلی فیصلہ جاری مذاکرات کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان حج 2027 کیلئے واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ کا اعلان شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر 3 پولیس افسران ملازمت سے برطرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں: فیصل کریم کنڈی

ایپسٹین سے روابط ، ناروے کے وزیراعظم سمیت 11 وزراء پارلیمنٹ میں طلب

Web Desk

1 October 2026

ناروے کی پارلیمنٹ نے امریکی بدنامِ زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے نارویجین سفارت کاروں اور اعلیٰ سیاست دانوں کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر باقاعدہ عوامی سماعت کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے رواں سال جنوری میں جاری کردہ لاکھوں دستاویزات کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے، جن میں دنیا بھر کی بااثر شخصیات کے ساتھ ایپسٹین کے روابط کا انکشاف ہوا تھا۔ ناروے، جو عالمی سفارت کاری اور نوبیل امن انعام کے انعقاد کے حوالے سے ممتاز مقام رکھتا ہے، میں ان انکشافات کے بعد شدید سیاسی بحران اور عوامی ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

پارلیمانی کمیٹی برائے نگرانی و آئینی امور نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر موجودہ وزیراعظم جوناس گار اسٹورے سمیت 11 موجودہ و سابق وزرائے خارجہ اور ترقیاتی امور کے وزراء کو طلبی کے نوٹس جاری کیے ہیں۔ وزیراعظم اسٹورے، جو 2005ء سے 2012ء تک ملک کے وزیر خارجہ بھی رہے ہیں، نے اپنے موقف میں واضح کیا ہے کہ ان کا ایپسٹین کے ساتھ کوئی ذاتی تعلق نہیں رہا اور یہ معاملہ کسی نظامی خرابی کے بجائے چند افراد کے انفرادی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ جوناس اینڈرسن کے مطابق سماعتوں کا مقصد وزارتِ خارجہ پر عوامی اعتماد بحال کرنا اور مفادات کے ٹکراؤ کے انسداد کے لیے قانون سازی کو یقینی بنانا ہے۔