LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
لانگ مارچ میں سرکاری وسائل کا بالکل استعمال نہیں کیا جائے گا: بیرسٹر گوہر احتجاج اور دھرنوں سے معیشت کو یومیہ 120 ارب کا نقصان ہوگا: وفاقی وزیر خزانہ ٹرمپ کا ایران پر جلد بڑے فیصلے کا اعلان، تباہی یا معاہدے کے آپشنز زیرِغور خواتین کو نشانہ بنانا بدترین سیاسی انتقام اور شرمناک ہے؛ نظریے کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا: وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی ہنگو میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جنہم واصل، 6 جوان شہید جنید اکبر کا بیان افراتفری اور تباہی کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے: عطا تارڑ ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف کارروائی پر غور، مشرقِ وسطیٰ میں امریکیوں کیلئے الرٹ شمالی کوریا کا عالمی دباؤ کے باوجود جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹنے سے انکار وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کل پارلیمانی رہنماؤں کا اہم اجلاس طلب کر لیا افغانستان میں موجود دہشتگرد بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہا رہے ہیں: طاہر اشرفی روس میں پارلیمانی انتخابات آخری مرحلے میں داخل، ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے تجاوز ایران کی امریکا اور علاقائی اتحادیوں کو سخت جوابی کارروائی کی دھمکی جماعت اسلامی ٹرین مارچ، عوامی حقوق کی تحریک جاری ر ہے گی: حافظ نعیم الرحمان ماسکو کی جانب آنے والے 338 ڈرونز تباہ، آئل ریفائنری کی تنصیب کو نقصان باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق

ٹرمپ کا ایران پر جلد بڑے فیصلے کا اعلان، تباہی یا معاہدے کے آپشنز زیرِغور

Web Desk

20 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ایران کے حوالے سے ایک خمی اور بڑا فیصلہ کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے تحت ایران کے سامنے فوجی کارروائی، معاشی تباہی اور معاہدے سمیت متعدد راستے کھلے ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے تازہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن فی الوقت مختلف امکانات پر غور کر رہا ہے، جن میں ایران کو مکمل طور پر ملیا میٹ کرنا، اسے معاشی طور پر تباہ کر کے مفلوج کر دینا، یا پھر بالآخر ایک نیا اور حتمی معاہدہ کرنا شامل ہے۔

امریکی صدر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں مشرقِ وسطیٰ میں بہت بڑے اور اہم واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے فوجی اور معاشی دباؤ میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، لیکن دوسری جانب سفارتی بنیادوں پر بات چیت کی گنجائش بھی اب بھی موجود ہے۔ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ وہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ممکنہ ملاقات کے آپشن پر بھی غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سامنے آنے والا یہ متضاد بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی اور بحری محاصرہ شدید ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ قبل ازیں، وائٹ ہاؤس نے ایران کی معیشت کو الگ تھلگ کرنے کے لیے ‘آپریشن اکنامک فیوری’ کے تحت تاریخی و معاشی پابندیوں اور کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جبکہ دوسری جانب پینٹاگون خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور بحری بیڑوں پر ایران کے ممکنہ جوابی حملوں کے بعد ہر قسم کے دفاعی ردِعمل کی تیاری مکمل کر رہا ہے۔