LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف کارروائی پر غور، مشرقِ وسطیٰ میں امریکیوں کیلئے الرٹ شمالی کوریا کا عالمی دباؤ کے باوجود جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹنے سے انکار وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کل پارلیمانی رہنماؤں کا اہم اجلاس طلب کر لیا افغانستان میں موجود دہشتگرد بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہا رہے ہیں: طاہر اشرفی روس میں پارلیمانی انتخابات آخری مرحلے میں داخل، ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے تجاوز ایران کی امریکا اور علاقائی اتحادیوں کو سخت جوابی کارروائی کی دھمکی جماعت اسلامی ٹرین مارچ، عوامی حقوق کی تحریک جاری ر ہے گی: حافظ نعیم الرحمان ماسکو کی جانب آنے والے 338 ڈرونز تباہ، آئل ریفائنری کی تنصیب کو نقصان باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی علیمہ خان کی گرفتاری کی شدید مذمت؛ فوری رہائی کا مطالبہ حکومت کا آج سے بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت

شمالی کوریا کا عالمی دباؤ کے باوجود جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹنے سے انکار

Web Desk

20 September 2026

شمالی کوریا نے اپنی جوہری طاقت کی حیثیت کو ’’ناقابلِ واپسی‘‘ (Irreversible) قرار دیتے ہوئے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام پر تنقید کرنے والی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی تازہ ترین قرارداد کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بااثر بہن کم یو جونگ نے عالمی ایجنسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس پر کھلے دوہرے معیار کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے امریکہ اور جنوبی کوریا کی خطرناک جوہری سرگرمیوں پر خاموش ہے، جبکہ شمالی کوریا کے قانونی دفاعی اقدامات کے خلاف قراردادیں منظور کی جا رہی ہیں۔

کم یو جونگ نے جنوبی کوریا کے جوہری توانائی سے چلنے والی جدید ترین آبدوزیں حاصل کرنے کے منصوبوں کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی ایجنسی کا یہ متعصبانہ اور غیر منصفانہ رویہ عدمِ پھیلاؤ کے عالمی معاہدی نظام (Non-Proliferation Regime) کو تباہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے بھی ایک علیحدہ بیان میں واضح کیا ہے کہ پیانگ یانگ کی جوہری حیثیت حتمی ہے اور اس کے خلاف اٹھنے والے کسی بھی مطالبات یا جوہری دستبرداری کے دباؤ کو یکسر رد کیا جاتا ہے، کیونکہ ملک کا جوہری ڈیٹرنس ملکی بقا کی ضمانت ہے۔

اس کے ساتھ ہی شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق سربراہِ مملکت کم جونگ اُن نے ملک کے اہم اسلحہ ساز کارخانوں اور دفاعی تنصیبات کا مسلسل ۳ روزہ دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے مسلح افواج کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے پر زور دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ۲۰۱۴ء میں روس کے ساتھ طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے اور یوکرین جنگ کے عملی تجربات کے بعد پیانگ یانگ اپنی فوجی و دفاعی صلاحیتوں میں تیزی سے جدت لا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، کم جونگ اُن نے پیانگ یانگ میں پروپیگنڈا کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے نظریاتی جنگ میں مزید جدید، تخلیقی اور جارحانہ انداز اختیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔