LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف کارروائی پر غور، مشرقِ وسطیٰ میں امریکیوں کیلئے الرٹ شمالی کوریا کا عالمی دباؤ کے باوجود جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹنے سے انکار وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کل پارلیمانی رہنماؤں کا اہم اجلاس طلب کر لیا افغانستان میں موجود دہشتگرد بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہا رہے ہیں: طاہر اشرفی روس میں پارلیمانی انتخابات آخری مرحلے میں داخل، ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے تجاوز ایران کی امریکا اور علاقائی اتحادیوں کو سخت جوابی کارروائی کی دھمکی جماعت اسلامی ٹرین مارچ، عوامی حقوق کی تحریک جاری ر ہے گی: حافظ نعیم الرحمان ماسکو کی جانب آنے والے 338 ڈرونز تباہ، آئل ریفائنری کی تنصیب کو نقصان باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی علیمہ خان کی گرفتاری کی شدید مذمت؛ فوری رہائی کا مطالبہ حکومت کا آج سے بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت

روس میں پارلیمانی انتخابات آخری مرحلے میں داخل، ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے تجاوز

Web Desk

20 September 2026

روس میں پارلیمان کے ایوانِ زیریں، ‘ریاستی دُوما’ (State Duma) کی نئی تشکیل کے لیے منعقد ہونے والے ۳ روزہ انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو کر مکمل ہو گیا ہے۔ ۱۸ ستمبر سے شروع ہونے والے اس انتخابی عمل میں شہریوں نے ۱۹ اور ۲۰ ستمبر کو بھی اپنے من پسند نمائندوں کے انتخاب کے لیے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ روسی مرکزی الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق ۲۰ ستمبر کو ماسکو وقت کے مطابق دوپہر کے بعد ملک بھر میں مجموعی ٹرن آؤٹ ۵۰ فیصد سے تجاوز کر گیا تھا، جبکہ حتمی ٹرن آؤٹ تمام ووٹوں کی مکمل گنتی کے بعد جاری کیا جائے گا۔

ریاستی دُوما کی کل ۴۵۰ نشستوں کے لیے ہونے والے ان انتخابات میں ‘یونائیٹڈ رشیا’، ‘کمیونسٹ پارٹی’، ‘لبرل ڈیموکریٹک پارٹی’، ‘نیو پیپل’ اور ‘اے جسٹ رشیا’ سمیت تمام اہم سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔ الیکشن قوانین کے تحت ۴۵۰ میں سے آدھی (۲۲۵) نشستیں جماعتی فہرستوں (Party Lists) کی بنیاد پر اور باقی نصف نشستیں سنگل ممبر حلقوں کے ذریعے پُر کی جاتی ہیں۔ روس کے مختلف ٹائم زونز کے باعث کامچاتکا اور چُکوتکا جیسے مشرقی علاقوں میں پولنگ کا وقت ختم ہوتے ہی متعلقہ انتخابی کمیشنوں نے ووٹوں کی گنتی کا عمل بلا تاخیر شروع کر دیا ہے۔

انتخابات کے دوران شہریوں نے روایتی پولنگ سٹیشنز کے ساتھ ساتھ آن لائن الیکٹرانک ووٹنگ کی سہولت سے بھی بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھایا۔ اس دوران ماسکو سمیت کئی علاقوں میں آن لائن ڈیجیٹل سسٹم پر سائبر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تمام سیکیورٹی خدشات پر قابو پا کر نظام کو فوری بحال کیا گیا۔ صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کی کوششوں کا الزام عائد کیا، تاہم غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس الزام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ واضح رہے کہ ۲۰۲۲ء میں یوکرین تنازع کے آغاز کے بعد روس میں ہونے والے یہ پہلے باقاعدہ پارلیمانی انتخابات ہیں، جن سے قبل صدر پوتن نے قوم سے خطاب میں شہریوں پر قومی یکجہتی اور مستقبل کے تعین کے لیے اپنا آئینی حقِ رائے دہی استعمال کرنے پر زور دیا تھاے۔