LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

سڈنی میں دہشتگردی، پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب

Web Desk

15 December 2025

آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر ایک دہشتگردانہ حملے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم، واقعے کے بعد کچھ بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بغیر کسی ٹھوس شواہد کے اس واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی، جسے پاکستانی حکام نے شدید مسترد کیا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق حملہ آور ساجد اکرم اور نوید اکرم کے پاکستانی ہونے کے کوئی قابل تصدیق شواہد موجود نہیں۔ اگر یہ افراد واقعی پاکستانی ہوتے، تو ان کے خاندان یا دیگر متعلقہ معلومات پاکستان میں دستیاب ہوتیں، جو کہ موجود نہیں۔اسرائیلی اخبار یروشلم اور اس سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے منظم ایجنڈے کے تحت الزام عائد کیا کہ حملہ آور پاکستانی ہیں، جبکہ حقیقت میں ساجد اکرم 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا پہنچے اور 2001 میں پارٹنر ویزا میں تبدیلی ہوئی۔ آسٹریلین ہوم منسٹر ٹونی بیورک نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے۔پاکستانی حکام کے مطابق ساجد اکرم پچھلے دس سال سے آسٹریلیا کے ایک گن کلب کے ممبر ہیں، جس کی وجہ سے ان سے چھ لائسنس شدہ ہتھیار برآمد ہوئے۔ ساجد اکرم کا بنیادی تعلق افغانستان کے صوبے ننگر ہار سے بتایا جاتا ہے۔حکام نے مزید کہا کہ واقعے کے دوران فائرنگ کی تکنیک افغان طالبان کے مشہور طریقہ واردات سے مماثلت رکھتی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور افغانستان اس کا ایک مرکز بن چکا ہے۔پاکستان نے زور دیا ہے کہ عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈے سے پاکستان کو غلط طور پر بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، جسے مسترد کیا جاتا ہے۔