LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

ٹرمپ دور میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر فارن پالیسی کی رپورٹ

Web Desk

8 December 2025

امریکی جریدے فارن پالیسی نے رپورٹ دی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پاکستان نے غیر معمولی سفارتکاری کے ذریعے واشنگٹن میں اپنی سب سے مضبوط پوزیشن حاصل کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ تاریخی سطح کی قربت قائم کی اور کابل حملے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری میں فیصلہ کن کردار ادا کرکے صدر ٹرمپ کا مکمل اعتماد جیت لیا۔
فارن پالیسی کے مطابق اسلام آباد کی ذہین سفارتکاری نے پاک-امریکہ تعلقات کو نئی بلندی دی، اور ریکو ڈِک کی بحالی سے دنیا کو یہ پیغام ملا کہ پاکستان مغربی سرمایہ کاری کے لیے ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے کرپٹو فریم ورک میں شفاف اور جدید ماڈل پیش کر کے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کو نئی رفتار دی۔ صدر ٹرمپ نے پاک-بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کو سراہا اور جنگ بندی میں پاکستان کا کریڈٹ کھلے عام تسلیم کیا۔
امریکی رویے میں تبدیلی کا بھی ذکر کرتے ہوئے فارن پالیسی نے کہا کہ بھارت کے ساتھ سرد رویہ اور پاکستان کے ساتھ گرم تعلقات نے اسلام آباد کی سفارتی کامیابی کو واضح طور پر نمایاں کیا۔ پاکستان نے امریکہ کو یہ پیغام دیا کہ تعلقات اپنی میرٹ پر ہوں گے، کسی تیسرے ملک کے تناظر میں نہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے صدر ٹرمپ نے پاکستان کو اپنی مشرق وسطیٰ حکمت عملی کا لازمی ستون قرار دیا۔ مستقبل میں پاکستان کا کردار کرٹیکل منرلز، خطے کے امن اور عالمی توانائی استحکام میں مرکزی عنصر بنتا جا رہا ہے۔
فارن پالیسی کے مطابق ٹرمپ حکومت کے دور میں پاکستان کے ساتھ کرپٹو، توانائی، انسداد دہشت گردی اور منرلز میں تعاون تیزی سے بڑھا، اور امریکہ کا پاکستان پر تنقیدی لہجہ کم جبکہ اعتماد بڑھا، جو اسلام آباد کی کامیاب سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔
آخر میں رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے قیادت، وژن اور سفارتی حکمت کے امتزاج سے واشنگٹن میں اپنی پوزیشن غیر معمولی طور پر مضبوط بنائی