LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی نیوی کا ہیلی کاپٹر بحیرہ عرب میں گر کر تباہ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافہ کردیا وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتیں 2000 سے تجاوز کرگئیں ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.3 ریکارڈ کراچی میں شاہین فورس کا کامیاب آپریشن، مبینہ پولیس مقابلے میں دو ڈاکو ہلاک پاک چین دوستی نسلوں پر محیط، سی پیک سے تعاون مزید مضبوط ہوگا: چینی سفیر کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کا وژن چین کی ترقی و خوشحالی کی بنیاد ہے: اسحاق ڈار اگر ایران نے امریکا پر حملہ کیا تو اس کا اسی انداز میں جواب دیا جائے گا: وائٹ ہاؤس امریکا نے ایران سے جوہری معاہدے کی امید ظاہر کر دی پاکستان کیلئے بڑی معاشی خوشخبری، ٹیکس وصولیاں پہلی بار 13 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گئیں ایران سے معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں، اچھی ملاقاتیں ہوئیں، ٹرمپ ایران کو 3 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے کا ابتدائی معاہدہ طے پا گیا، عرب میڈیا کادعویٰ بارشیں ہی بارشیں، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا پنجاب کے مختلف اضلاع کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا خطرہ ہے، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی خیبرپختونخوا میں سیلاب کی تباہ کاریاں، آسمانی بجلی گرنے سے 2 بچے جاں بحق،مدرسے کی 15 طالبات زخمی کالام کی سیف اللہ جھیل میں کشتی الٹ گئی، 5 افراد جاں بحق، 3 زخمی

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی انسانی سمجھ اور حکومتی قوانین سے آگے نکل گئی، اقوام متحدہ کا انتباہ

Web Desk

1 July 2026

اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل نے دنیا کو ایک سنگین خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی سائنسی سمجھ بوجھ اور حکومتی پالیسیوں سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، جس کے باعث یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی کسی بڑے یا تباہ کن نقصان کا سبب نہیں بنے گی۔

جنیوا میں جاری کی گئی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتوں کو مؤثر قانون سازی کے لیے مضبوط سائنسی شواہد درکار ہیں، تاہم AI کی برق رفتار ترقی کے باعث سائنسی تحقیق اور پالیسی سازی اس کا ساتھ نہیں دے پا رہی۔ پینل کے شریک چیئرمین یوشوا بینجیو کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جبکہ ایسے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں کہ بعض AI سسٹمز دھوکہ دہی پر مبنی رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔ موجودہ سائنسی علم اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ مستقبل میں AI خودکار طریقے سے یا بدنیتی پر مبنی استعمال کے ذریعے تباہ کن نتائج پیدا نہیں کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق، مستقبل قریب میں ایسے “ایجنٹک AI” سسٹمز سامنے آئیں گے، جو انسانی مداخلت کے بغیر حقیقی دنیا کے مختلف اور پیچیدہ کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے، جبکہ طویل مدت میں مصنوعی ذہانت خود کو مزید بہتر بنانے، معیشت میں گہرائی سے شامل ہونے اور کوانٹم کمپیوٹنگ و بایوٹیکنالوجی جیسی جدید ترین ٹیکنالوجیز کے ساتھ یکجا ہونے کی جانب بڑھ سکتی ہے۔

اگرچہ AI پہلے ہی ریاضی اور سائنس جیسے شعبوں میں ماہرین کی سطح کی کارکردگی دکھا رہی ہے اور ادویات و ویکسین کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ ابھی واضح نہیں کہ اس سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد روزگار اور عالمی اقتصادی ترقی پر کس حد تک مثبت یا منفی اثر ڈالیں گے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کو غلط معلومات پھیلانے، مالی فراڈ، سائبر حملوں اور حیاتیاتی خطرات کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ دنیا کے کئی ممالک کے پاس جدید AI سسٹمز کی نگرانی اور مؤثر ضابطہ بندی (Regulation) کی بنیادی صلاحیت ہی موجود نہیں۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ AI کے مؤثر اور محفوظ استعمال کے لیے فوری اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ “دنیا ایسی چیز کو مؤثر انداز میں منظم نہیں کر سکتی جسے وہ مکمل طور پر سمجھتی ہی نہ ہو۔ AI میں جہاں بے پناہ امکانات موجود ہیں، وہیں اس کے خطرات بھی حقیقی ہیں اور اب مزید انتظار کرنے کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے۔”