LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا ایران پر جلد بڑے فیصلے کا اعلان، تباہی یا معاہدے کے آپشنز زیرِغور خواتین کو نشانہ بنانا بدترین سیاسی انتقام اور شرمناک ہے؛ نظریے کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا: وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی ہنگو میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جنہم واصل، 6 جوان شہید جنید اکبر کا بیان افراتفری اور تباہی کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے: عطا تارڑ ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف کارروائی پر غور، مشرقِ وسطیٰ میں امریکیوں کیلئے الرٹ شمالی کوریا کا عالمی دباؤ کے باوجود جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹنے سے انکار وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کل پارلیمانی رہنماؤں کا اہم اجلاس طلب کر لیا افغانستان میں موجود دہشتگرد بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہا رہے ہیں: طاہر اشرفی روس میں پارلیمانی انتخابات آخری مرحلے میں داخل، ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے تجاوز ایران کی امریکا اور علاقائی اتحادیوں کو سخت جوابی کارروائی کی دھمکی جماعت اسلامی ٹرین مارچ، عوامی حقوق کی تحریک جاری ر ہے گی: حافظ نعیم الرحمان ماسکو کی جانب آنے والے 338 ڈرونز تباہ، آئل ریفائنری کی تنصیب کو نقصان باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی علیمہ خان کی گرفتاری کی شدید مذمت؛ فوری رہائی کا مطالبہ

کراچی: مین ہول میں گرنے والے 3 سالہ بچے کی 14 گھنٹوں بعد لاش نکال لی گئی

Web Desk

1 December 2025

کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نیپا چورنگی پر اتوار کی رات خریداری کے لیے آئی فیملی کا تین سالہ بچہ نبیل ایک ڈپارٹمنٹل سٹور کے باہر رات گیارہ بجے کھلے مین ہول (گٹر) میں گر گیا تھا۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق ریسکیو آپریشن فوری شروع کیا گیا تھا، ڈائیونگ آلات کی عدم موجودگی کے باعث آپریشن دو گھنٹے کے لیے رک بھی گیا تھا جسے دوبارہ شروع کر دیا گیا تھا۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان خان نے بتایا تھا کہ ساڑھے گیارہ گھنٹے بلاتعطل ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کے بعد اسے عارضی طور پر روک دیا گیا کیونکہ جب تک متعلقہ ادارے جائے وقوعہ پر نہیں پہنچتے آپریشن دوبارہ شروع نہیں کیا جا سکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اتنے سنجیدہ واقعہ کی ذمہ داری کوئی قبول نہیں کر رہا تھا، کوئی انڈر واٹر ڈائی گرام موجود نہیں تو ہم جگہ جگہ کھدائی بھی نہیں کر سکتے تھے، تاہم ریسکیو ٹیم جائے وقوعہ پر موجود تھی جس نے بچے کی دوبارہ تلاش شروع کر دی تھی۔

ریسکیو حکام نے بتایا کہ رات سے پانچ مقامات پر کھدائی کر کے بچے کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی، متعلقہ محکموں کی عدم موجودگی کے باعث سرچ آپریشن میں مشکلات کا سامنا رہا، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور کے ایم سی کا عملہ بہت دیر کے بعد جائے حادثہ پر پہنچا۔

قبل ازیں ریسکیو حکام نے بتایا تھا کہ ان کے پاس کھدائی کے لیے مشینری نہیں، کسی ادارے کی طرف سے مشینری نہیں ملی، کسی بھی سرکاری ادارے کا افسر اس وقت موجود نہیں ہے، شروع میں کام کرنے والی مشینری بھی چلی گئی۔

ذرائع کے مطابق رات گئے ریسکیو آپریشن رکنے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کےتحت ہیوی مشینری منگوائی، جائے وقوعہ پر ہیوی مشینری کے ذریعے کھدائی جاری رہی۔

بچے کے والد کا کہناہےکہ شاپنگ کرکے نکلے تو بیٹا ہاتھ چھڑا کربھاگا، موٹر سائیکل مین ہول کے قریب پارک تھی، بیٹا آنکھوں کےسامنےگٹرمیں گرا، مین ہول پرڈھکنا نہیں تھا۔