مشکل وقت میں ملک کی خاطر صوبوں نے وفاق کو سپورٹ کیا: مراد علی شاہ
Web Desk
18 June 2026
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی بجٹ پیش کرنے کے بعد ایک اہم پوسٹ بجٹ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملکی تاریخ کے مشکل ترین معاشی و تزویراتی وقت میں تمام صوبوں نے ملک کی خاطر وفاق کو بھرپور سپورٹ کیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وفاق اور تمام صوبوں کے مابین اس تزویراتی نکتے پر مکمل اتفاق پایا گیا ہے کہ ملک کا ہر فیصلہ اور معاشی اقدام خالصتاً آئینِ پاکستان کے مطابق کیا جائے گا۔ مراد علی شاہ نے زور دیا کہ آئین میں نیشنل فنانس کمیشن (NFC) کو مکمل تحفظ حاصل ہے، اس لیے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے کی رقوم میں کسی بھی قسم کی کٹوتی یا کمی نہیں کی جا سکتی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ کے حجم، خسارے، تنخواہوں میں اضافے اور صوبے کے معاشی خدوخال کے حوالے سے درج ذیل اہم تفصیلات کا اعلان کیا
مالی سال کے صوبائی بجٹ کا کل حجم 3 ہزار 525 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ صوبے کے جاری اخراجات کا تخمینہ 2 ہزار 560 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ مجموعی طور پر سندھ بجٹ کو تقریباً 300 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ مراد علی شاہ نے انکشاف کیا کہ سندھ کو وفاقی محصولات کی مد میں مئی تک 441 ارب روپے کے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ صوبائی وصولیوں میں بھی 52 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تمام تر معاشی چیلنجز کے باوجود سندھ کی اپنی صوبائی ٹیکس وصولی ریکارڈ 623 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، تاہم ایکسائز کا ہدف تھوڑا کم رکھا گیا ہے۔
غریب اور دیہاڑی دار طبقے کو مہنگائی سے بچانے کے لیے صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت بڑھا کر 43,000 روپے مقرر کر دی گئی ہے اور آئندہ مالی سال میں کم از کم آمدن یہی ہوگی۔ سرکاری ملازمین کی مالی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے تنخواہوں اور پنشن میں 7% اضافہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کو گرانٹس دے سکتی ہیں۔ اسی آئینی اختیار کے تحت سندھ نے وفاق کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بجٹ سے ہٹ کر خطیر رقم دی، جبکہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو بھی فنڈز فراہم کیے۔ انہوں نے آئین میں یہ شق شامل کرنے پر بانیِ آئین قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو زبردست سلام پیش کیا۔ بجٹ میں صوبے کی مالی ذمہ داریوں اور غیر ملکی و ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 54 ارب 25 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ صوبے میں امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال کو فول پروف بنانے کے لیے خطیر رقم رکھی گئی ہے، جبکہ جامعات (Universities) کے لیے بھی خصوصی گرانٹ برقرار ہے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے کسانوں کو ریلیف اور سپورٹ فراہم کی، جس کے نتیجے میں صوبے میں کسانوں نے گندم کی ریکارڈ کاشت کی اور اس بار گندم کی تاریخی پیداوار حاصل ہوئی ہے۔
متعلقہ عنوانات
جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری
18 June 2026
مسلم لیگ (ن) نے آزاد جموں و کشمیر عام انتخابات 2026 کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی
18 June 2026
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات
18 June 2026
امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری
18 June 2026
رواں سال ہیٹ ویو کی شدت میں 32 فیصد اضافہ، 53 گلاف واقعات کا خطرہ
18 June 2026
پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی
18 June 2026
بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی
18 June 2026
ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری
18 June 2026