رواں سال ہیٹ ویو کی شدت میں 32 فیصد اضافہ، 53 گلاف واقعات کا خطرہ
Web Desk
18 June 2026
قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے چیئرمین اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے حکام نے ملک میں جاری حالیہ شدید موسمیاتی تغیرات، ہیٹ ویو اور سیلابی صورتحال کے تزویراتی خطرات پر ایک اہم بریفنگ دی ہے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے انکشاف کیا ہے کہ اس سال ہیٹ ویو (شدید گرمی کی لہر) کی شدت میں گزشتہ سالوں کے مقابلے میں 32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ اگلے اور اس سے اگلے ماہ (جولائی اور اگست) میں ملک کے مختلف حصوں میں مزید شدید ہیٹ ویوز متوقع ہیں۔
کمیٹی کے اراکین (بشمول سینیٹر شیری رحمان اور وقار مہدی) کے سوالات اور این ڈی ایم اے حکام کی جانب سے سامنے آنے والے اہم ترین جیو پولیٹیکل اور ماحولیاتی نکات درج ذیل ہیں:
چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق، درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے رواں سال گلیشیائی جھیلیں پھٹنے (Glacial Lake Outburst Flood – GLOF) کے تقریباً 53 واقعات ہونے کا شدید امکان ہے، جو پہاڑی علاقوں کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ ملک بھر میں شدید خشکی اور گرمی کے باعث اب تک چھوٹے بڑے جنگلاتی آگ کے 110 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ممبر کمیٹی وقار مہدی کے سوال پر چیئرمین این ڈی ایم اے نے اطمینان بخش جواب دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں پانی کے ریزروائرز (ڈیموں) کی مجموعی صورتِ حال گزشتہ برس کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واپڈا نے پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (PMD) کے ساتھ مل کر ارلی وارننگ سینسرز کے نظام کو پہلے سے زیادہ فعال اور بہتر بنایا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت سے قبل معلومات مل سکیں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ طاس معاہدے کی روح کے برعکس، بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ پانی کی آمد اور اخراج کے اہم ترین تزویراتی اعداد و شمار (Data) شیئر نہیں کیے جا رہے۔ پاکستان اب دیگر متبادل اور تکنیکی وسائل کے ذریعے یہ ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے بھارت کے اقدامات پر مائیکرو لیول پر بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ بھارت نئی ٹنلز بنا رہا ہے جس میں پانی جمع کرنے کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔ اس پر چیئرمین این ڈی ایم اے نے متنبہ کیا کہ اگر مقبوضہ جموں و کشمیر میں زیادہ بارشیں ہوئیں اور وہاں گلاف (GLOF) کے واقعات ہوئے، تو بھارت کی جانب سے اچانک پانی چھوڑنے کا شدید امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس بار سیلاب آیا تو اس کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے اور وہ شاید روایتی راستے یعنی ‘قصور’ سے ملک میں داخل نہ ہو پائے۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے حکام نے بتایا کہ ملک میں طویل خشک سالی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع ایکشن پلان تیار کر کے تمام صوبوں کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے تجویز دی کہ سیلابی پانی کو محفوظ بنانے کے لیے صوبائی سطح پر ‘مون سون بیسنز’ (Monsoon Basins) قائم کیے جا سکتے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان کے ایک سوال کے جواب میں کہ خشک سالی کے بعد ہونے والی بے وقت بارشیں کن چیزوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ شدید ہیٹ ویو اور اچانک موسم کی تبدیلی کی وجہ سے ملک کی نقد آور فصلوں کو پہلے ہی شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو ملکی غذائی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے
متعلقہ عنوانات
سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل
18 June 2026
اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال
18 June 2026
جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری
18 June 2026
مسلم لیگ (ن) نے آزاد جموں و کشمیر عام انتخابات 2026 کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی
18 June 2026
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات
18 June 2026
امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری
18 June 2026
پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی
18 June 2026
بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی
18 June 2026