LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری سعودی کابینہ کا آبی گزرگاہوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور سیرتِ محمدیؐ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہو گا، مریم نواز وزیراعظم کا پمز ہسپتال آتشزدگی کا نوٹس، واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم ملک بھر میں عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے پنجاب اور شن جیانگ میں زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری انسانیت کیلیے رحمت بن کر تشریف لائے، محسن نقوی حضور نبی اکرم ﷺ کی آمد انسانیت کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے، گورنر پنجاب سیرت النبیﷺ پوری انسانیت کیلئے رحمت، عدل، امن کی ابدی روشنی ہے: بلاول بھٹو نیواڈا کا دریائے کولوراڈو کے پانی میں کٹوتی کے منصوبے کیخلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کا آبنائے ملاکا کو محفوظ اور کھلا رکھنے کے عزم کا اعادہ جنوبی سوڈان میں 2 امن فوجیوں کی ہلاکت، اقوام متحدہ کی شدید مذمت

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا ایران سے معاہدے کو کانگریس کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ

Web Desk

15 June 2026

 ایران کے حوالے سے روایتی طور پر انتہائی سخت موقف رکھنے والے نامور امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے حالیہ معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے اس معاہدے کے مختلف فریقوں کی جانب سے کی جانے والی تشریحات پر گہرے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ ایران کی جانب سے اس معاہدے کی جو تشریح پیش کی جا رہی ہے، وہ امریکی مذاکراتی ٹیم کے دعوؤں اور بیانات سے یکسر مختلف نظر آتی ہے۔

سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکی انتظامیہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ کیے جانے والے کسی بھی معاہدے کو حتمی شکل دینے سے پہلے امریکی کانگریس کے سامنے پیش کیا جانا انتہائی ضروری ہے، تاکہ قانون ساز ادارے اس کا تفصیلی اور مکمل جائزہ لے سکیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس نوعیت کے حساس اور تزویراتی معاہدے پر کانگریس میں باقاعدہ بحث اور ووٹنگ ہونی چاہئے تاکہ ملکی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔