LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا ایران سے معاہدے کو کانگریس کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ

Web Desk

15 June 2026

 ایران کے حوالے سے روایتی طور پر انتہائی سخت موقف رکھنے والے نامور امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے حالیہ معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے اس معاہدے کے مختلف فریقوں کی جانب سے کی جانے والی تشریحات پر گہرے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ ایران کی جانب سے اس معاہدے کی جو تشریح پیش کی جا رہی ہے، وہ امریکی مذاکراتی ٹیم کے دعوؤں اور بیانات سے یکسر مختلف نظر آتی ہے۔

سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکی انتظامیہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ کیے جانے والے کسی بھی معاہدے کو حتمی شکل دینے سے پہلے امریکی کانگریس کے سامنے پیش کیا جانا انتہائی ضروری ہے، تاکہ قانون ساز ادارے اس کا تفصیلی اور مکمل جائزہ لے سکیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس نوعیت کے حساس اور تزویراتی معاہدے پر کانگریس میں باقاعدہ بحث اور ووٹنگ ہونی چاہئے تاکہ ملکی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔