LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ

سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی

Web Desk

13 June 2026

اسلام آباد: سپریم جوڈیشل کونسل (SJC) نے سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت اور ملک بھر کی ہائی کورٹس کے ججز کے لیے وضع کردہ ‘ضابطۂ اخلاق’ (Code of Conduct) میں انتہائی اہم اور دوررس ترامیم کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ کونسل کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، ان ترامیم کا مقصد عدالتی نظام کو جدید انتظامی تقاضوں کے مطابق ڈھالنا اور ججز کے خلاف شکایات کے طریقۂ کار کو مزید تیز بنانا ہے۔

منظور شدہ ترمیم شدہ ضابطۂ اخلاق اور نئے قواعد و ضوابط کی تفصیلی رپورٹ

نئے نوٹیفکیشن کے تحت ضابطۂ اخلاق کے متن میں باقاعدہ طور پر ‘وفاقی آئینی عدالت’ کا نام اور حوالہ شامل کر دیا گیا ہے۔اس بڑی آئینی ترمیم کے بعد اب یہ ضابطۂ اخلاق سپریم کورٹ اور صوبائی ہائی کورٹس کے ساتھ ساتھ وفاقی آئینی عدالت کے ججز پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

 ترمیم شدہ ضابطۂ اخلاق کے تحت ججز کی مختلف سماجی (Social) اور ثقافتی (Cultural) تقریبات میں شرکت پر عائد دیرینہ پابندی کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ضابطۂ اخلاق کی شق 12 (Article 12) میں کی جانے والی اس اہم ترین ترمیم کے مطابق، اب ججز سیاسی اور بین الاقوامی سفارتی (Diplomatic) تقاریب میں بھی شرکت کر سکیں گے۔ تاہم، اس کے لیے شرط رکھی گئی ہے کہ جج کو تقریب میں جانے سے پہلے اپنے متعلقہ چیف جسٹس سے باقاعدہ پیشگی اجازت (Prior Permission) لینا لازمی ہوگا، بغیر اجازت ایسی تقریبات میں شرکت نظم و ضبط کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔

 کونسل نے ہائی کورٹس کے ججز کے خلاف موصول ہونے والی شکایات، مس کنڈکٹ کی رپورٹس اور انکوائری کے دائرۂ کار کو انتہائی تیز اور منظم کر دیا ہے، 

 کسی بھی ہائی کورٹ کے جج سے متعلق جیسے ہی کوئی باقاعدہ رپورٹ یا شکایت موصول ہوگی، تو متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پابند ہوں گے کہ وہ 2 دن کے اندر اندر اس معاملے پر ہائی کورٹ کے 3 ججز پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دیں۔ یہ تشکیل شدہ کمیٹی ہر صورت 2 ہفتوں (14 دن) کے اندر اپنی تمام تر انکوائری اور کارروائی مکمل کر کے حتمی فیصلہ سنانے کی قانونی طور پر پابند ہوگی۔اگر کسی وجہ سے ہائی کورٹ کی یہ کمیٹی مقررہ وقت میں معاملہ نمٹانے میں ناکام رہتی ہے، تو وہ کیس خود بخود مزید قانونی کارروائی اور حتمی فیصلے کے لیے سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کو منتقل (ریفر) کر دیا جائے گا۔