LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ

خلیجی کوششوں کے باعث ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحے میں موخر کیا، برطانوی اخبار

Web Desk

15 January 2026

 برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فوجی حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کر دیا۔ یہ تبدیلی سعودی عرب، قطر اور عمان سمیت خلیجی ملکوں کی سفارتی کوششوں کے باعث عمل میں آئی، جنہوں نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کے ذریعے حملے کو مؤخر کرنے کی سفارش کی۔

اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے بدھ کی رات اپنے اعلان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ ایران میں ہلاکتیں رک گئی ہیں اور تہران کو اپنے ‘اچھے عمل’ کا مظاہرہ کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ خلیجی ممالک نے یہ بھی انتباہ کیا کہ حملے کے خطے میں نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں۔

دی ٹیلی گراف کے مطابق ترکی اور مصر نے بھی امریکی صدر سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی، ساتھ ہی خبردار کیا کہ ایران پر حملہ پڑوسی ممالک اور عالمی تیل و گیس کی مارکیٹ پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیشنل سکیورٹی ٹیم کو ہدایت کی کہ ایران پر حملہ صرف اس صورت میں کیا جائے جب اس کے ایرانی رجیم پر فیصلہ کن اثرات مرتب ہوں۔ تاہم امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا۔

پینٹاگون نے مشرق وسطیٰ کے لیے کروز میزائلوں، لڑاکا طیاروں اور جنگی بحری جہازوں سے لیس بحری بیڑے روانہ کر دیے ہیں، جو ایک ہفتے کے اندر علاقے میں پہنچیں گے۔ امریکی حکام نے حملے کی حکمت عملی میں ایرانی پاسداران انقلاب، بسیج فورس اور پولیس کو نشانہ بنانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔