LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی

’ہم امریکی نہیں بننا چاہتے‘ گرین لینڈ نے ٹرمپ کے منصوبے کو یکسر مسترد کردیا

Web Desk

10 January 2026

گرین لینڈ کے عوام اور سیاسی قیادت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیانات کو سختی سے رد کرتے ہوئے انہیں تضحیک آمیز اور دھمکی آمیز قرار دے دیا ہے۔

گرین لینڈ کی پارلیمنٹ کی تمام پانچوں جماعتوں نے ایک مشترکہ بیان میں واضح کیا کہ، “ہم نہ امریکی بننا چاہتے ہیں، نہ ڈینش، ہم گرین لینڈرز ہیں۔”
سیاسی جماعتوں کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ کا مستقبل صرف اور صرف یہاں کے عوام کے فیصلے سے طے ہوگا، کوئی طاقت ہمیں بیچ سکتی ہے اور نہ ہی زبردستی کسی میں شامل کرسکتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ گرین لینڈ کسی کا “مشن” نہیں کہ اسے خریدا یا غیر ارادی طور پر کسی ملک کا حصہ بنایا جائے۔ یہ ایک خودمختار شناخت رکھنے والی قوم ہے جس کا حق ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرے۔

گرین لینڈ کے وزیر اعظم مُٹے ایگیدی نے بھی دوٹوک انداز میں کہا کہ، “ہم نہ امریکی بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی ڈینش، ہم اپنے طور پر کلالیت (Kalaallit) یعنی گرین لینڈ کے باشندے رہنا چاہتے ہیں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ گرین لینڈ نہ تو فروخت ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی طاقت کے زیرِ اثر لایا جاسکتا ہے۔

اسی طرح ڈیموکریٹٹ پارٹی کے رکن اور پارلیمانی انتخابات میں اہم کردار ادا کرنے والے جینز فریڈرک نیلسن نے بھی امریکی مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کسی صورت فروخت نہیں ہوگا۔

گرین لینڈ کے عوام اور سیاسی نمائندوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا رویہ خاص طور پر اس وقت زیادہ تشویش ناک بن گیا جب انہوں نے گرین لینڈ کی حیثیت بزور طاقت تبدیل کرنے جیسے بیانات دیے، جنہیں گرین لینڈ کی قیادت نے ناقابلِ قبول اور توہین آمیز قرار دیا۔