LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نیوی کی میری ٹائم مشق ’سی سپارک 2026‘ کراچی میں شروع بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور بچوں سے بات نہ کروانے کا معاملہ، توہینِ عدالت کی درخواست دائر پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار ملک میں کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش صدر زرداری سے لندن میں محسن نقوی کی ملاقات، اہم پیغام پہنچایا وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں صدارتی محل آمد، گارڈ آف آنر پیش ایف سی بلوچستان ٹریننگ سینٹر خضدار میں بیسک ملٹری ٹریننگ بیچ 76 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ یوم دفاع و شہداء: پشاور کے تعلیمی اداروں میں پاک فوج کے زیراہتمام تقریبات ایئر ڈیفنس نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو ناکام بنا دیا: اردن پاسداران انقلاب کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں پر مشتبہ گاڑی چڑھ گئی، 4 افراد جاں بحق نیپال میں تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 1050 تک پہنچ گئیں، 4 ہزار افراد تاحال لاپتہ امریکا کی بچوں کے پاسپورٹ کے حصول کیلئے نئی تجویز پیش امریکی، روسی اور چینی صدور کی ایشیا پیسفک سربراہ کانفرنس کے موقع پر ملاقات متوقع امریکی صدر نے ہنگ کاؤ کو امریکا کا نیول سیکرٹری نامزد کردیا

اپنی فوج کو کسی بھی وقت دنیا کے کسی بھی ملک پر حملے کا حکم دے سکتا ہوں؛ ٹرمپ

Web Desk

9 January 2026

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک پر فوجی حملے کا حکم دے سکتے ہیں اور انہیں ایسا کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے کیونکہ وہ امریکا کے کمانڈر انچیف ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس فیصلے میں انہیں کوئی نہیں روک سکتا اور وہ کسی ملک پر حملے کا فیصلہ صرف اپنی سوچ اور طے کردہ اخلاقی اصولوں کے تحت کرتے ہیں، کسی اور کی پروا نہیں۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینیٹ نے ایک قرارداد بحث کے لیے منظور کی، جس کے تحت صدر کو وینزویلا میں مزید فوجی اقدامات کے لیے کانگریس کی اجازت لینا ہوگی۔ قرارداد کے حق میں 52 جبکہ مخالفت میں 47 ووٹ پڑے۔ اس پر صدر ٹرمپ نے اپنی ہی جماعت ریپبلکن کے اُن سینیٹرز پر شدید تنقید کی جنہوں نے قرارداد کی حمایت کی اور انہیں سیاسی نتائج کی دھمکی بھی دی۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف دوسرے مرحلے میں کیے جانے والے فوجی حملے کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ یاد رہے کہ 3 جنوری کو امریکی فورسز نے وینزویلا پر کارروائی کرتے ہوئے صدارتی محل میں آپریشن کیا تھا، جس کے دوران صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا گیا۔ اس آپریشن میں 100 افراد ہلاک ہوئے، جن میں وینزویلا اور کیوبا کے 55 فوجی اہلکار شامل تھے۔

صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان پر سنگین الزامات عائد کیے گئے، تاہم انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے گرفتاری کو اغوا قرار دیا۔ اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر یہ بحث شدت اختیار کر گئی کہ امریکا نے کس قانونی جواز کے تحت وینزویلا پر حملہ کیا اور وہاں کے صدر کو حراست میں لیا۔