LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی برطانیہ نے امریکا ایران جنگ میں پاکستان کا کردار سراہا: اسحاق ڈار فیلڈ مارشل سے سعودی وزیر ماحولیات کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال سپریم کورٹ نے کے پی ملازمین کی سینیارٹی کیس کا فیصلہ سنا دیا مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17 ویں وزیراعظم منتخب اسحاق ڈار کی سعودی اور ترک وزرائے خارجہ سے گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال مکہ معاہدے میں شمولیت کی دعوت ملی تو ضرور غور کریں گے: بنگلہ دیش قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سانحہ پمز پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور

کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو پر 1996 کے طیارہ حادثے کے کیس میں امریکا نے فردِ جرم لگا دی

Web Desk

20 May 2026

امریکا نے 1996 میں دو سویلین طیاروں کو مار گرائے جانے کے واقعے سے متعلق کیوبا کے سابق صدر اور سابق وزیر دفاع راول کاسترو پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق راول کاسترو پر امریکی شہریوں کے قتل کی سازش، طیاروں کی تباہی اور چار افراد کے قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر 94 سالہ راول کاسترو پر یہ الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ مقدمہ اس واقعے سے متعلق ہے جب 1996 میں کیوبا کی فضائیہ نے جلا وطن کیوبن تنظیم کے دو چھوٹے طیارے مار گرائے تھے، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس وقت راول کاسترو کیوبا کے وزیر دفاع جبکہ ان کے بھائی فیدل کاسترو ملک کے صدر تھے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائی کی منظوری وزارت دفاع کی سطح پر دی گئی تھی۔

بعد ازاں امریکی حکام کی جانب سے کیوبا کے متعدد دورے بھی کیے گئے جبکہ یہ مقدمہ طویل عرصے بعد دوبارہ کھولا گیا ہے۔