LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کا آبنائے ہرمز میں نیا کنٹرول زون قائم، بحری جہازوں کیلئے پیشگی اجازت لازمی قرار کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو پر 1996 کے طیارہ حادثے کے کیس میں امریکا نے فردِ جرم لگا دی بینکس، مالیاتی ادارے اور اسٹاک مارکیٹ آئندہ ہفتے صرف 2 روز کھلیں گے پرنس رحیم آغا خان کا پاکستان پہنچنے پر شاندار استقبال، صدر ہاؤس میں گارڈ آف آنر اور اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں رواں سال خطبۂ حج 35 زبانوں میں نشر کیا جائے گا، سعودی حکومت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ہی ہفتے میں دوسری بار ایران پہنچ گئے؛ ایران امریکا مذاکرات پر اہم ملاقاتیں متوقع منتخب نمائندوں پر گولیاں چلائی گئیں، کے پی کے عوام کو دیوار سے نہ لگایا جائے؛ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی آئی ایم ایف مشن کے دورہ پاکستان میں توسیع؛ پیٹرولیم لیوی 100 روپے کرنے اور 430 ارب کے نئے ٹیکسوں کا مطالبہ فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل فٹبال کی پاکستان میں پہلی باضابطہ رونمائی، اسلام آباد میں شاندار تقریب مستحق و نادار افراد کو بروقت سہولیات کی فراہمی ترجیحات میں شامل ہے: وزیراعظم ڈی جی آئی ایس پی آر کی مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، اساتذہ کیساتھ خصوصی نشست سلہٹ ٹیسٹ: بنگلادیش نے پاکستان کو شکست دے کر وائٹ واش کردیا رواں سال سمگلنگ میں 80 فیصد کمی ہوئی: وزیر مملکت طلال چودھری بجٹ 27-2026 کی تیاریاں: آئی ایم ایف اور ایف بی آر مذاکرات مکمل، 15,262 ارب روپے کا ریکارڈ ٹیکس ہدف مقرر پنجاب اور آذربائیجان کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق

کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو پر 1996 کے طیارہ حادثے کے کیس میں امریکا نے فردِ جرم لگا دی

Web Desk

20 May 2026

امریکا نے 1996 میں دو سویلین طیاروں کو مار گرائے جانے کے واقعے سے متعلق کیوبا کے سابق صدر اور سابق وزیر دفاع راول کاسترو پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق راول کاسترو پر امریکی شہریوں کے قتل کی سازش، طیاروں کی تباہی اور چار افراد کے قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر 94 سالہ راول کاسترو پر یہ الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ مقدمہ اس واقعے سے متعلق ہے جب 1996 میں کیوبا کی فضائیہ نے جلا وطن کیوبن تنظیم کے دو چھوٹے طیارے مار گرائے تھے، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس وقت راول کاسترو کیوبا کے وزیر دفاع جبکہ ان کے بھائی فیدل کاسترو ملک کے صدر تھے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائی کی منظوری وزارت دفاع کی سطح پر دی گئی تھی۔

بعد ازاں امریکی حکام کی جانب سے کیوبا کے متعدد دورے بھی کیے گئے جبکہ یہ مقدمہ طویل عرصے بعد دوبارہ کھولا گیا ہے۔