LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کے پی کا بُرا حال، پی ٹی آئی عمران خان کے بیانیہ میں مصروف ہے: علی شاہ باچا لانگ مارچ کیلئے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال، سہیل آفریدی سے جواب طلب منشیات و اسلحہ برآمدگی کیس، عدالت کا انمول عرف پنکی کو پیش کرنے کا حکم پاک فوج کا اہم اقدام، استور سے سکردو تک 66 کلومیٹر روڈ ٹریک مکمل چھوٹی و درمیانی صنعتوں کیلئے طویل المدتی قرض کی شرح سالانہ 2 فیصد کرنے کا مطالبہ انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ: پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے 160 فیصد زائد قیدی، 75 فیصد زیرِ سماعت وزیرِخارجہ سے بحرینی ہم منصب کی ملاقات، تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پاکستان، برطانیہ کا آئندہ ٹریڈ ڈائیلاگ میں عملی نتائج کے حصول پر اتفاق خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے وار جاری، مزید 142 کیسز رپورٹ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دورہ مکمل، عالمی امن کیلئے پاکستانی کردار کی تحسین کرک: مسلح افراد کی فائرنگ سے ایس ایچ او سمیت 2 اہلکار شہید افغانستان میں اس وقت 25 دہشت گرد تنظیمیں کام کر رہی ہیں: محسن نقوی سندھ ہائیکورٹ آئینی بنچز کی مدت میں توسیع کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب 8 اکتوبر 2005 کے زلزلہ متاثرین کا دکھ آج بھی محسوس ہوتا ہے: مریم نواز

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنے رواں ماہ ترکیہ کا دورہ کریں گے

Web Desk

7 October 2026

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنے (Mark Carney) رواں ماہ ترکیہ کا تاریخی اور اہم سرکاری دورہ کریں گے، جو کہ کسی بھی کینیڈین وزیراعظم کی جانب سے ترکیہ کا پہلا باضابطہ دوطرفہ دورہ ہوگا۔ کینیڈین وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق مارک کارنے 21 سے 23 اکتوبر تک ترکیہ میں قیام کریں گے، جہاں وہ انقرہ میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے اعلیٰ سطحی دوطرفہ مذاکرات کریں گے اور اس کے بعد استنبول میں دونوں ممالک کے ممتازبزنس کمیٹی اور کاروباری رہنماؤں سے خطاب کریں گے۔

دورے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کینیڈین وزیراعظم نے ترکیہ کو نیٹو (NATO) کا ایک انتہائی اہم ملٹری اتحادی اور جی-20 (G20) کا مضبوط شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی دورے کا بنیادی مقصد کینیڈا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی و تجارتی روابط کو استوار کرنا، دفاعی تعاون میں بہتری لانا اور خطے کے دفاعی و سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔