LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کی آنکھ کے علاج کے لیے پمز اسپتال منتقلی،انجکشن کی دوسری ڈوز کے بعد ڈسچارج ٹی 20 ورلڈ کپ: سپر ایٹ مرحلہ، پاکستان اور انگلینڈ آج مدمقابل ہوں گے الیکشن کمیشن نے علی امین گنڈاپور کے اثاثوں سے متعلق کیس کی سماعت منسوخ کردی میکسیکو میں مافیا سربراہ ال مینچو کی ہلاکت کے بعد پرتشدد ہنگامے، نیشنل گارڈ کے 25 اہلکار مارے گئے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ: ویسٹ انڈیز کی زمبابوے کے خلاف بڑی فتح، بھارت پر دباؤ بڑھ گیا کراچی ڈیفنس میں تیز رفتار کار کی ٹکر، آن لائن فوڈ ڈیلیوری رائیڈر جان کی بازی ہار گیا وزیراعظم شہبازشریف 2روزہ سرکاری دورے پر قطرپہنچ گئے ایم کیوایم وزرا کے سندھ مخالف بیانات، پی پی قیادت وفاق سے وضاحت مانگے، شرجیل میمن کامطالبہ عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اورکابینہ کو توہین عدالت کے نوٹسزکا حکم واپس محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تعیناتی وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج گل پلازہ سانحہ پیپلز پارٹی کی 18 سالہ بدترین حکمرانی کا نتیجہ ہے، ڈاکٹر فاروق ستار کے سنسنی خیز انکشافات علیمہ خان کے 14ویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری پارلیمنٹ کو تالے لگانا توہین ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے, راجہ ناصر عباس کا مطالبہ جیل میں آپ کے پاس آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا کیسے کریں گے؟ جسٹس عقیل عباسی وزیرِ اعظم شہباز شریف کا دو روزہ سرکاری دورہ قطر: اقتصادی و اسٹریٹجک شراکت داری کے نئے دور کا آغاز

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اورکابینہ کو توہین عدالت کے نوٹسزکا حکم واپس

Web Desk

23 February 2026

 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 202 اور ہائی کورٹ رولز کے تحت چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ ہی بینچوں کی تشکیل کا خصوصی اختیار رکھتے ہیں۔

عدالت کے مطابق عافیہ صدیقی کیس میں 21 جولائی 2025 کا حکم نامہ قانونی دائرہ اختیار سے باہر تھا، اس وقت متعلقہ جج منظور شدہ روسٹر کا حصہ نہیں تھے، عدالت نے 21 جولائی 2025 کے حکم نامے کو کالعدم قرار دے دیا۔ وزیراعظم اور کابینہ کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کرنے کا حکم واپس لے لیا.

لارجر بینچ کے مطابق ہائی کورٹ کا کوئی بھی بینچ چیف جسٹس کے منظور شدہ روسٹر کے ذریعے تشکیل ہوتا ہے، عدالتی اختیار جج کی انفرادی حیثیت سے وابستہ نہیں ہوتا، عدالتی اختیار صرف قانونی طور پر تشکیل شدہ بینچ کے ذریعے ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

فیصلے کے مطابق کوئی بھی جج یا بینچ اپنی مرضی سے کسی مقدمے کو خود کو الاٹ نہیں کر سکتا، کوئی جج منظور شدہ روسٹر سے باہر جا کر کسی مقدمے کی سماعت نہیں کر سکتا، منظور شدہ روسٹر کی خلاف ورزی پر جاری کیے گئے احکامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ عدالت کے مطابق چیف جسٹس کو اختیار حاصل ہے وہ مقدمات کو یکجا کر کے کسی بھی بینچ کو منتقل کر دیں، ہائی کورٹ کے قواعد کی پابندی تمام ججوں اور عدالتی افسران پر لازم ہے۔

لارجر بینچ جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس انعام امین منہاس، جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل تھا۔واضح رہ کہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے وفاقی حکومت کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی کے لئے کی جانے والی کوششوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھااورحکام کو توہینِ عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔