LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ امریکی سٹاک مارکیٹ میں تیزی، سرمایہ کاروں کی توجہ تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج پر مرکوز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل اور ابہا کے ائیرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے: حوثی ملیشیا دبئی: بیوٹی ورلڈ مڈل ایسٹ 2026ء کی نمائش میں پاکستان پویلین کا افتتاح امریکا کا کرس مرفی کو العدید ایئربیس تک رسائی دینے سے انکار آبنائے ہرمز مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے: ایرانی فوج کا پھر دعویٰ فیئر فورڈ ایئربیس سے برطانوی نوجوان گرفتار روس کا ایران کو ایک ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان روس کا ایران کو ایک ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنے رواں ماہ ترکیہ کا دورہ کریں گے سویڈن: شاہی محل کے باہر پولیس کی فائرنگ سے مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار ایرانی وزیر داخلہ کی قطری امیر سے ملاقات، علاقائی امور پر تعمیری بات چیت صدر اور وزیراعظم کی ملاقات، ملکی سکیورٹی صورتحال، لانگ مارچ پر تبادلہ خیال

شامی صدر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو

Web Desk

7 October 2026

شام کے صدر احمد الشرع (Ahmad al-Sharaa) نے اپنے اہم اور سرکاری دورے کے دوران سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شام اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات کو ازسرنو استوار کرنے، باہمی اقتصادی تعاون اور بالخصوص شام کی بازآبادکاری و سرمایہ کاری کے شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے باب المندب اور بحیرہ احمر کی ناکہ بندی کے باعث سیکیورٹی صورتحال انتہائی چیلنجنگ ہو چکی ہے۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے کے امن و استحکام، توانائی کی ترسیل کے تحفظ اور ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی رابطہ کاری پر زور دیا۔ صدر احمد الشرع کی ریاض آمد کو شام کے عرب دنیا اور علاقائی سفارت کاری میں متحرک واپسی کے ایک اہم سنگِ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔