LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل اور ابہا کے ائیرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے: حوثی ملیشیا دبئی: بیوٹی ورلڈ مڈل ایسٹ 2026ء کی نمائش میں پاکستان پویلین کا افتتاح امریکا کا کرس مرفی کو العدید ایئربیس تک رسائی دینے سے انکار آبنائے ہرمز مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے: ایرانی فوج کا پھر دعویٰ فیئر فورڈ ایئربیس سے برطانوی نوجوان گرفتار روس کا ایران کو ایک ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان روس کا ایران کو ایک ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنے رواں ماہ ترکیہ کا دورہ کریں گے سویڈن: شاہی محل کے باہر پولیس کی فائرنگ سے مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار ایرانی وزیر داخلہ کی قطری امیر سے ملاقات، علاقائی امور پر تعمیری بات چیت صدر اور وزیراعظم کی ملاقات، ملکی سکیورٹی صورتحال، لانگ مارچ پر تبادلہ خیال روس یوکرین پر بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے، زیلنسکی کا دعویٰ لیتھوانیا میں جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ تعیناتی پر روس جوابی اقدامات کرے گا، کریملن آبنائے ہرمز کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی سوشل میڈیا پوسٹس نہیں کریں گی، ایرانی ڈپٹی سپیکر شامی صدر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو

اسرائیلی فوج ہائی الرٹ، حماس کے ممکنہ حملے پر غزہ کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی: کاٹز

Web Desk

7 October 2026

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے 7 اکتوبر 2023ء کے حملے کو 3 سال مکمل ہونے کے موقع پر اسرائیلی دفاعی افواج کو سیکیورٹی کے حوالے سے ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع کے دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق، حساس انٹیلی جنس اطلاعات کی روشنی میں فوج کو مکمل چوکنا رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حماس حملے کی برسی کے موقع پر غزہ میں اسرائیلی پیش قدمی اور فورسز کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے غزہ کے فلسطینی شہریوں کو براہِ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر حملوں کے نتیجے میں کسی بھی اسرائیلی فوجی یا اہلکار کو نقصان پہنچا تو حماس اور غزہ کے عوام دونوں کو اس کی انتہائی سنگین اور بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی ممکنہ حملے کے جواب میں اسرائیلی فوج کی عسکری کارروائی تمام حدود کو عبور کر سکتی ہے، جس سے خطے میں مزید کشیدگی اور تباہی پھیلنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔