LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل اور ابہا کے ائیرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے: حوثی ملیشیا دبئی: بیوٹی ورلڈ مڈل ایسٹ 2026ء کی نمائش میں پاکستان پویلین کا افتتاح امریکا کا کرس مرفی کو العدید ایئربیس تک رسائی دینے سے انکار آبنائے ہرمز مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے: ایرانی فوج کا پھر دعویٰ فیئر فورڈ ایئربیس سے برطانوی نوجوان گرفتار روس کا ایران کو ایک ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان روس کا ایران کو ایک ارب ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنے رواں ماہ ترکیہ کا دورہ کریں گے سویڈن: شاہی محل کے باہر پولیس کی فائرنگ سے مسلح شخص زخمی حالت میں گرفتار ایرانی وزیر داخلہ کی قطری امیر سے ملاقات، علاقائی امور پر تعمیری بات چیت صدر اور وزیراعظم کی ملاقات، ملکی سکیورٹی صورتحال، لانگ مارچ پر تبادلہ خیال روس یوکرین پر بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے، زیلنسکی کا دعویٰ لیتھوانیا میں جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ تعیناتی پر روس جوابی اقدامات کرے گا، کریملن آبنائے ہرمز کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی سوشل میڈیا پوسٹس نہیں کریں گی، ایرانی ڈپٹی سپیکر شامی صدر کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو

ایران کی ناکہ بندی: امریکا کا 130 تجارتی جہاز موڑنے اور 13 تباہ کرنے کا دعویٰ

Web Desk

7 October 2026

ایران کے خلاف جاری امریکی بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) کو سخت کرتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے مشرقِ وسطیٰ کے سمندری راستوں میں 130 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائی ان بحری جہازوں کو روکنے کے لیے کی گئی جو امریکی پابندیوں یا احکامات کی خلاف ورزی کر رہے تھے یا مبینہ طور پر ایران سے منسلک مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ امریکی فوج کا مزید کہنا ہے کہ احکامات پر عمل نہ کرنے والے 3 جہازوں کو ناکارہ بنا دیا گیا، جبکہ گزشتہ 12 ہفتوں کے دوران مجموعی طور پر 13 تجارتی جہازوں کو تباہ کیا جا چکا ہے جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے خفیہ مالیاتی نیٹ ورک کا حصہ تھے۔

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب میں ایرانی سفارتی اور معاشی ناکہ بندی کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کی یہ بحری کارروائیاں جاری رہیں گی۔ دوسری جانب، ان اہم عالمی سمندری راہداریوں پر بحری کشیدگی سے عالمی سطح پر تیل اور تجارتی اشیاء کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ فی الحال امریکی فوج کے ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی ایران کی جانب سے ان مخصوص تجارتی جہازوں کی تباہی سے متعلق کوئی باضابطہ عکسِ العمل یا ردِعمل سامنے آیا ہے۔