LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ مسئلہ فلسطین ہے، ترک صدر پاکستان کا سلامتی کونسل سے فلسطین میں اسرائیلی آبادکاریاں فوری روکنے کا مطالبہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے استحکام کیلئے نیا فنڈ قائم کر دیا حکومت کا 2027ء تک سود سے پاک مالی نظام کی تیاری کا فیصلہ, مالیاتی استحکام برقرار رکھتے ہوئے تبدیلی کا عمل مکمل کیا جائے گا، وزارت خزانہ ٹرمپ کا آج قطر میں مذاکرات کا اعلان، ایران نے تردید کر دی قطر میں منجمد 12 ارب ڈالرز میں نصف رقم جلد ہمارے حوالے کردی جائے گی؛ ایرانی صدر مالی سال کے آخری ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب 48 کروڑ ڈالر سے زائد ہوگئے جنوبی لبنان سے انخلا حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے سے مشروط ہے: اسرائیل ایران نے قطر میں امریکا سے مجوزہ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی کہوٹہ میں قیدیوں کی وین سے 14 فرار، 4 دوبارہ گرفتار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن، 6 وکلا کی فہرست جیل حکام کو جمع سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر کا آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی پر زور پانی پاکستان کی بقا کا معاملہ، کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: حکومتِ پاکستان افغان ناظم الامور کو کراچی حملے کے حوالے سے ڈیمارش تھمایا گیا۔ ترجمان سپریم کورٹ آزاد کشمیرکا پی ٹی آئی ک رجسٹریشن کا عبوری فیصلہ معطل کر دیا

کہوٹہ میں قیدیوں کی وین سے 14 فرار، 4 دوبارہ گرفتار

Web Desk

29 June 2026

راولپنڈی: راولپنڈی منتقلی کے دوران کہوٹہ کے علاقے چکیاں پوسٹ کے قریب قیدیوں کی ایک مروجہ وین سے 14 قیدیوں کے فرار ہونے کا ایک سنسنی خیز اور تزویراتی سیکیورٹی بریک ڈاؤن کا واقعہ پیش آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، یہ سنگین واقعہ اس وقت پیش آیا جب قیدیوں کو لے جانے والی سرکاری وین کو روٹین کی تزویراتی چیکنگ کے لیے روکا گیا۔ اس دوران ایک قیدی نے انتہائی چاک و چوبند منصوبہ بندی کے تحت آن ڈیوٹی پولیس اہلکاروں کی آنکھوں میں لال مرچیں پھینک دیں، جس سے وہاں شدید افراتفری مچ گئی اور موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 14 قیدی گاڑی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

واقعے کے فوراً بعد کہوٹہ پولیس نے ہنگامی اور تزویراتی وائرلیس کالز کے ذریعے فوری ایکشن لیا اور تعاقب کرتے ہوئے 4 مفرور قیدیوں کو دوبارہ حراست میں لے لیا ہے، جبکہ باقی 10 خطرناک قیدیوں کی تلاش کے لیے علاقے میں ایک بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

سینئر پولیس افسران نے نفری کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور مروجہ تفتیشی و حفاظتی کارروائیوں کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ پولیس نے چکیاں اور اس کے گردونواح کے تمام راستوں کا گھیراؤ کرتے ہوئے مختلف تزویراتی مقامات پر سخت ناکہ بندی (Blockade) کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مینوئل اور ڈیجیٹل دونوں فریم ورکس کو استعمال کیا جا رہا ہے اور سیکیورٹی فورسز کی خصوصی ٹیمیں جنگلات اور قریبی آبادیوں میں چھاپے مار رہی ہیں تاکہ مفرور قیدیوں کو جلد از جلد دوبارہ قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔