LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے گا: علی پرویز ملک کینیڈا کا ایران امریکا مفاہمت میں پاکستان کے تعمیری کردار کا اعتراف پاکستان سٹاک مارکیٹ میں انڈیکس ایک لاکھ 81 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال محسن نقوی کا جلوسوں، مجالس کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کا حکم چین کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی مکمل حمایت کا اعلان ایران کا جوہری پروگرام فی الحال موجودہ حالت میں برقرار رہے گا، ٹرمپ ایران امریکا امن معاہدے پر دستخط کی ویڈیو جاری ٹرمپ اور پزشکیان نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے: وزیراعظم کی توثیق فلسطین کی مقبوضہ مغربی کنارے اسرائیلی غیر قانونی بستیوں کی توسیع کی شدید مذمت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم کو قاتل کہہ دیا امریکا۔ایران مفاہمتی یادداشت کی دستخطی تقریب، پاکستانی وفد سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا ایران معاہدہ جوہری ہتھیاروں کے خلاف مضبوط دیوار ثابت ہوگا: ٹرمپ امریکا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، ایک شخص ہلاک، 5 زخمی وائٹ ہاؤس میں یو ایف سی ایونٹ پر مبینہ حملے کی سازش ناکام، 5 مشتبہ افراد گرفتار امریکی محکمۂ جنگ نے انڈو پیسیفک کمانڈ کا نام دوبارہ پیسیفک کمانڈ رکھ دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم کو قاتل کہہ دیا

Web Desk

18 June 2026

فرانس میں منعقدہ جی سیون (G7) سربراہی اجلاس کے بعد ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے روایتی اور منفرد انداز میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی شخصیت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں ایک سخت مذاکرات کار قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سامنے بیٹھے مودی کو حیران کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیکھنے میں ایک انتہائی خوبصورت، اچھے اور نرم مزاج انسان لگتے ہیں، بالکل ایسے جیسے کوئی فرشتہ ہو، لیکن حقیقت میں وہ اندر سے انتہائی سخت اور ایک “قاتل سودے باز” (Killer Negotiator) ہیں۔ کاروباری اور سیاسی دنیا میں ٹرمپ کا یہ جملہ کسی ایسے ماہر مذاکرات کار کے لیے استعمال ہوتا ہے جو اپنے مفادات کا سختی سے تحفظ کرنا جانتا ہو۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران امریکی صدر نے ایران کے ساتھ طے پانے والے سفارتی معاہدے اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے تزویراتی خطرات کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اگر ایران کے ساتھ یہ اہم پیش رفت نہ ہوتی اور بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز تجارتی آمد و رفت کے لیے بند رہتی، تو پوری دنیا کو 1929ء کی عظیم کساد بازاری (Great Depression) جیسی سنگین اور ہولناک معاشی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت اور توانائی کی بین الاقوامی ترسیل کو برقرار رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے اور اس کی بندش کے عالمی معیشت پر دور رس تباہ کن اثرات مرتب ہوتے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ کی کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں ہی آبنائے ہرمز کا مستقل کھلا رہنا ممکن ہوا ہے، جس سے اب عالمی منڈیوں میں استحکام آ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے ساتھ یہ تاریخی معاہدہ نہ ہوتا تو آبنائے ہرمز کے کھلے رہنے کی ضمانت دینا کسی طور ممکن نہ تھا، جس کی وجہ سے پوری دنیا شدید ترین معاشی دباؤ کا شکار ہو جاتی۔