LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی

ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس: ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کی درخواست؛ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

Web Desk

15 April 2026

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس کے مرکزی ملزم عمر حیات کی جانب سے ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد اور کیس کی منتقلی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے درخواست پر سماعت کی، جس میں ملزم کے وکیل، سٹیٹ کونسل اور مدعی مقدمہ کے وکیل سردار محمد قدیر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ انہیں ٹرائل کورٹ کے رویے پر تحفظات ہیں اور عدالت نے ان کی عدم موجودگی میں کارروائی آگے بڑھائی، لہٰذا کیس کسی دوسری عدالت منتقل کیا جائے۔

ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے ان کے ساتھ نامناسب کنڈکٹ اختیار کیا اور بیماری کی صورت میں التواء دینے کے بجائے فوری طور پر سرکاری وکیل مقرر کر کے جرح مکمل کرنے کا حکم دیا۔ دوسری جانب، مدعی مقدمہ کے وکیل سردار محمد قدیر نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ دس ماہ گزرنے کے باوجود ملزم کے وکلاء نے صرف دو گواہان پر جرح کی ہے اور وہ مسلسل التواء مانگ کر ٹرائل میں تاخیر کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ ایک ‘ماڈل کورٹ’ ہے جس نے ملزم کو پہلے ہی بہت سے مواقع فراہم کیے ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ملزم کے وکیل کے کنڈکٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر وکلاء کا رویہ ٹرائل کورٹ کے ساتھ ایسا ہوگا تو عدالتیں کیسے چلیں گی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر جرح کے لیے دس گھنٹے مانگے جائیں گے اور پھر بھی وقت طلب کیا جائے گا تو عدالت کیا کرے گی؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ماڈل کورٹس کو سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت جلد فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا جو جلد سنایا جائے گا۔