LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاسداران انقلاب کا امریکی بحری جہازوں اور 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو شہیدوں کے شہر لاڑکانہ آمد پر خوش آمدید، بلاول بھٹو 6 ستمبر کا دن یاد دلاتا ہے کہ قوم متحد ہو تو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی: صدر زرداری ایران کا برکس ممالک سے ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کا مطالبہ شادی کی تقریب پر حملے میں استعمال ہتھیار امریکی ساختہ تھے، ایرانی عدلیہ ٹرمپ کے نمائندہ وفد کی روسی صدر سے ملاقات، 3 گھنٹے سے زائد مذاکرات جاری رہے ایران کا خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کیلئے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان ایران جنگ سے متعلق معلومات لیک ہونے کی امریکی تحقیقات، ذمے دار کی شناخت نہ ہو سکی یوم دفاع و شہدائے پاکستان کے موقع پر مسلح افواج کا شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت ملک بھر میں یوم دفاع و شہدا آج بھرپور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے یوم دفاع و شہدا ہمیں مسلح افواج اور قوم کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، وزیراعظم عوام نے ثابت کردیا، میر پور خاص عمران خان کا قلعہ ہے: سہیل آفریدی آئی پی یو یوتھ کانفرنس کی سربراہی پاکستان کو مل گئی، سینیٹر آغا شاہ زیب صدر منتخب حکومت سے مذاکرات نہ ہوئے تو منگل کو پہیہ جام ہڑتال ہو گی:حافظ نعیم الرحمان بلوچستان کے عوام کا امن، خوشحالی اور فلاح ریاستی کوششوں کا مرکز ہے: فیلڈ مارشل

ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس: ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کی درخواست؛ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

Web Desk

15 April 2026

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس کے مرکزی ملزم عمر حیات کی جانب سے ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد اور کیس کی منتقلی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے درخواست پر سماعت کی، جس میں ملزم کے وکیل، سٹیٹ کونسل اور مدعی مقدمہ کے وکیل سردار محمد قدیر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ انہیں ٹرائل کورٹ کے رویے پر تحفظات ہیں اور عدالت نے ان کی عدم موجودگی میں کارروائی آگے بڑھائی، لہٰذا کیس کسی دوسری عدالت منتقل کیا جائے۔

ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے ان کے ساتھ نامناسب کنڈکٹ اختیار کیا اور بیماری کی صورت میں التواء دینے کے بجائے فوری طور پر سرکاری وکیل مقرر کر کے جرح مکمل کرنے کا حکم دیا۔ دوسری جانب، مدعی مقدمہ کے وکیل سردار محمد قدیر نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ دس ماہ گزرنے کے باوجود ملزم کے وکلاء نے صرف دو گواہان پر جرح کی ہے اور وہ مسلسل التواء مانگ کر ٹرائل میں تاخیر کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ ایک ‘ماڈل کورٹ’ ہے جس نے ملزم کو پہلے ہی بہت سے مواقع فراہم کیے ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ملزم کے وکیل کے کنڈکٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر وکلاء کا رویہ ٹرائل کورٹ کے ساتھ ایسا ہوگا تو عدالتیں کیسے چلیں گی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر جرح کے لیے دس گھنٹے مانگے جائیں گے اور پھر بھی وقت طلب کیا جائے گا تو عدالت کیا کرے گی؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ماڈل کورٹس کو سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت جلد فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا جو جلد سنایا جائے گا۔