LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی پر اسلام آباد میں ‘آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش’ کا انعقاد؛ پاک آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا

ایران کی جانب بڑی امریکی فورس روانہ، جنگی بحری جہاز اور طیارے شامل

Web Desk

23 January 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایک بڑی بحری اور فضائی فوجی طاقت ایران کی جانب روانہ کر دی ہے، تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکا لازمی طور پر فوجی کارروائی کرے گا۔

ایئر فورس ون میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ متعدد بحری جہاز اور فضائی اثاثے ایران کے قریب تعینات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے تاکہ صورتحال پر گہری نظر رکھی جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے اقدامات پر مسلسل نظر ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر پھانسیاں دی گئیں تو کارروائی کی جائے گی، جس کے بعد ایران نے پھانسیاں منسوخ کر دیں۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو امریکا اس کے لیے تیار ہے، تاہم اگر ایران نے نیوکلیئر ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو دوبارہ حملہ کیا جائے گا۔

عالمی امور پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے، جبکہ گرین لینڈ کی سکیورٹی کے حوالے سے نیٹو کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپریل میں چین کا دورہ کریں گے اور سال کے اختتام پر چینی صدر کے امریکا آنے کی توقع ہے۔