LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی

امریکا کا پاکستان سمیت 75 ممالک کے لیے ویزا پروسیسنگ عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ

Web Desk

14 January 2026

امریکا نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ ایسے درخواست گزاروں کی چھان بین سخت کرنے کے لیے کیا گیا ہے جن کے بارے میں خدشہ ہو کہ وہ امریکا جا کر سرکاری فلاحی سہولیات پر انحصار کریں گے۔

فاکس نیوز ڈیجیٹل کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی ایک خفیہ میمو میں قونصلر افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ موجودہ قانون کے تحت ایسے افراد کے ویزے مسترد کیے جائیں جو “پبلک چارج” یعنی سرکاری امداد پر بوجھ بن سکتے ہوں، جبکہ اس دوران ویزا اسکریننگ کے نظام کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

یہ پابندی 21 جنوری سے نافذ ہوگی اور غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی، جب تک محکمہ خارجہ امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ کے طریقہ کار پر نظرثانی مکمل نہیں کر لیتا۔

متاثرہ ممالک میں پاکستان، روس، ایران، افغانستان، برازیل، عراق، مصر، نائجیریا، تھائی لینڈ، یمن اور صومالیہ سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق نومبر 2025 میں دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں کو ہدایات دی گئی تھیں کہ “پبلک چارج” قانون کے تحت درخواست گزاروں کی سخت جانچ کی جائے۔ اس میں عمر، صحت، انگریزی زبان پر عبور، مالی حیثیت اور طویل المدتی طبی دیکھ بھال کی ممکنہ ضرورت جیسے عوامل کو مدنظر رکھا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق زیادہ عمر یا زیادہ وزن رکھنے والے افراد، یا وہ لوگ جنہوں نے ماضی میں کسی بھی سرکاری نقد امداد یا ادارہ جاتی سہولت سے فائدہ اٹھایا ہو، ان کے ویزے مسترد کیے جا سکتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے کہا کہ امریکا ایسے ممکنہ تارکین وطن کو داخلے سے روکنے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرے گا جو امریکی عوام کی فلاحی اسکیموں کا غلط فائدہ اٹھا سکتے ہوں۔

حکام کے مطابق نئی پابندیوں میں استثنا بہت محدود ہوگا اور صرف ان درخواست گزاروں کو اجازت دی جائے گی جو “پبلک چارج” کے تمام معیار پر پورا اتریں گے۔

واضح رہے کہ “پبلک چارج” قانون کئی دہائیوں سے موجود ہے، تاہم مختلف حکومتوں کے ادوار میں اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار میں فرق رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے 2019 میں اس قانون کے دائرہ کار کو وسیع کیا تھا، جسے بعد میں بائیڈن انتظامیہ نے محدود کر دیا تھا۔