LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 59 روپے تک کمی ہوگی: اسحاق ڈار امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی پر اسلام آباد میں ‘آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش’ کا انعقاد؛ پاک آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ

خطے میں عسکری سرگرمیاں تیز: چین، ایران اور روس کی مشترکہ مشقیں

Web Desk

1 February 2026

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق اردن میں امریکی THAAD ایئر ڈیفنس سسٹم کی بیٹری تعینات کی جا رہی ہے، جبکہ چین روزانہ کی بنیاد پر امریکی طیارہ بردار جہازوں کو سیٹلائٹ کے ذریعے ٹریک کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی یہ ٹریکنگ ایران کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ عالمی سیاست میں دشمن کا دشمن دوست تصور کیا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق متعدد ممالک امریکا کی براہِ راست مخالفت کے بجائے ایران کے پسِ منظر میں یہ کھیل کھیلنا چاہتے ہیں، اور اگر امریکا نے اپنی پالیسیوں میں نرمی نہ دکھائی تو یہ رجحان مزید بڑھے گا۔

اسی تناظر میں ایران نے چین اور روس کو مشترکہ بحری مشقوں کی دعوت دے دی ہے۔ چین، روس اور ایران کی بحری افواج ایرانی بحری حدود میں داخل ہو چکی ہیں، جبکہ اتوار کے روز آبنائے ہرمز کے قریب مشترکہ فوجی مشقیں منعقد کی جائیں گی، جنہیں ٹی وی چینلز پر براہِ راست دکھایا جائے گا۔

چینی فوج کے ٹائپ 055 اور 052D کے کئی بھاری جنگی بحری جہاز ’’ہائنان‘‘ کے بحری اڈے سے ایرانی پانیوں کی جانب روانہ کیے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکی فضائیہ یورپ میں اپنے اڈوں پر کئی ایف-35 پانچویں نسل کے جنگی جہاز تعینات کر رہی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق مضبوط شواہد موجود ہیں کہ یہ جنگی طیارے آئندہ مشرقِ وسطیٰ کی جانب بھی منتقل ہو سکتے ہیں، جبکہ ان کی حتمی تعیناتی کے مقصد پر ابھی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

ادھر روسی فضائیہ کا Il-76MD-90A طیارہ نامعلوم پے لوڈ کے ساتھ ماسکو سے ایران پہنچا ہے، جس نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔