LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
انٹرنیشنل ماسٹرز ویٹ لفٹنگ، ایل سی ڈبلیو یو کی طالبہ نے دو گولڈ میڈلز جیت لئے خیبرپختونخوا: پی ٹی آئی دورِ حکومت میں 18 ارب روپے کی خوردبرد کا انکشاف راولپنڈی: سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کے گھر چوری وزیرخزانہ نے خام تیل سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کو تسلی بخش قرار دیدیا امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل نہیں ہونے دیں گے: ایرانی فوج سعودیہ پر حوثیوں کے حملے، خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ خیبرپختونخوا میں سرکاری فنڈز کے اجرا کا طریقہ کار سخت کرنے کا فیصلہ بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے پر وفاقی سطح کی جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ لوئر دیر کے علاقوں میں خسرہ کی وبا پھوٹ پڑی، 5 بچے جاں بحق پنجاب میں انسدادِ سموگ کارروائیاں تیز، 7 صنعتی یونٹس اور 4 بھٹے سیل نومبر 2024 کے بعد پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈیپ سیک اور منی میکس کو اے آئی ماڈلز کی اوپن سورسنگ کے لیے گرین سگنل پولیو ورکرز قوم کے ہیرو، پنجاب سے پولیو کا 100 فیصد خاتمہ ہمارا عزم ہے: مریم نواز آزاد کشمیر: سکول جانے والی گاڑی دریائے نیلم میں گر گئی، 4 بچے جاں بحق میر رضا قتل کیس: سندھ حکومت نے جے آئی ٹی سمیت مزید 2 تحقیقاتی کمیٹیاں بنا دیں

میشا شفیع کا عدالتی فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان

Web Desk

1 April 2026

لاہور: میشا شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی ایڈووکیٹ نے ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات کی جانب سے سنائے گئے فیصلے پر اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔ واضح رہے کہ سیشن کورٹ نے علی ظفر کی جانب سے دائر کیے گئے ہتکِ عزت کے دعوے پر فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ثاقب جیلانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی حاصل کرنے کے بعد اس کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور پھر اسے اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ ان کا موقف ہے کہ سیشن کورٹ کا یہ فیصلہ ان کی توقعات کے برعکس ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی موکلہ کے خلاف لگائے گئے الزامات کو قانونی طور پر درست ثابت نہیں کیا جا سکا۔

دوسری جانب، سیشن کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں قرار دیا ہے کہ میشا شفیع کی جانب سے لگائے گئے جنسی ہراسی کے الزامات سے علی ظفر کی ساکھ اور عزت کو نقصان پہنچا، جس کی وجہ سے وہ ہرجانے کے حقدار ہیں۔ یاد رہے کہ یہ مقدمہ 2018 سے زیرِ التوا تھا اور تقریباً 8 سال کے طویل ٹرائل اور 284 سماعتوں کے بعد اس کا پہلا بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے۔