LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 59 روپے تک کمی ہوگی: اسحاق ڈار امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی پر اسلام آباد میں ‘آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش’ کا انعقاد؛ پاک آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ

میشا شفیع کا عدالتی فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان

Web Desk

1 April 2026

لاہور: میشا شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی ایڈووکیٹ نے ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات کی جانب سے سنائے گئے فیصلے پر اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔ واضح رہے کہ سیشن کورٹ نے علی ظفر کی جانب سے دائر کیے گئے ہتکِ عزت کے دعوے پر فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ثاقب جیلانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی حاصل کرنے کے بعد اس کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور پھر اسے اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ ان کا موقف ہے کہ سیشن کورٹ کا یہ فیصلہ ان کی توقعات کے برعکس ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی موکلہ کے خلاف لگائے گئے الزامات کو قانونی طور پر درست ثابت نہیں کیا جا سکا۔

دوسری جانب، سیشن کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں قرار دیا ہے کہ میشا شفیع کی جانب سے لگائے گئے جنسی ہراسی کے الزامات سے علی ظفر کی ساکھ اور عزت کو نقصان پہنچا، جس کی وجہ سے وہ ہرجانے کے حقدار ہیں۔ یاد رہے کہ یہ مقدمہ 2018 سے زیرِ التوا تھا اور تقریباً 8 سال کے طویل ٹرائل اور 284 سماعتوں کے بعد اس کا پہلا بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے۔