LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی حزب اللہ کا بھی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کیلئے جنیوا پہنچ گئے بلاول بھٹو زرداری کی برطانوی وزیر ہیمش فالکن سے ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو ایران نے جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، لبنان جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے: اسماعیل بقائی سفیر پاکستان کی چیچن رہنما سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق مانیٹری پالیسی کا اعلان: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کسی کو فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،مولانا فضل الرحمان صدر پوتن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 80ویں سالگرہ پر فون کر کے مبارکباد ایران پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا: ایرانی سفیر

سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی

Web Desk

13 November 2025

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفیٰ صدرِ مملکت کو بھجوایا، جس میں انہوں نے لکھا کہ وہ صاف ضمیر کے ساتھ جا رہے ہیں اور انہیں کوئی پچھتاوا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملک کے آئین پر سنگین حملہ کیا گیا ہے، جس نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا قلم امانت ہے میرے لوگوں کی، اور احمد فراز کے اشعار کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار بھی کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ کے مطابق 27ویں ترمیم نے سپریم کورٹ کو تقسیم کر دیا، عدلیہ کی آزادی اور دیانت کو مجروح کر دیا، اور انصاف عام آدمی سے دور کر دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جس عدالت سے آئینی کردار ہی چھین لیا گیا، وہاں رہ کر حلف کی پاسداری ممکن نہیں۔ ایسے نظام کا حصہ بننا جو عدلیہ کی بنیاد کو کمزور کرے، میرے ضمیر کے خلاف ہے۔

دوسری جانب جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنے استعفے میں کہا کہ جس آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا تھا وہ آئین اب باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق تفصیلی خط چیف جسٹس پاکستان کو پہلے ہی لکھ چکا ہوں، لہٰذا استعفے میں دوبارہ تذکرہ ضروری نہیں سمجھتا۔

ذرائع کے مطابق دونوں ججوں کے استعفے صدرِ مملکت کو موصول ہو چکے ہیں، جس کے بعد عدلیہ میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔