LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سینیٹ میں ارکان سینیٹ کو لائف ٹائم بلیو پاسپورٹ دینےکا بل منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر تیزی ٹرمپ انتظامیہ اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے درمیان معاہدہ طے یوکرینی صدر مذاکرات کیلئے کسی دوسرے شخص کو ذمہ داری سونپیں: ڈونلڈ ٹرمپ روس کی پاک افغان کشیدگی کے خاتمے کیلئے ثالثی کی پیشکش امریکی سپریم کورٹ کا نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ کی اپیل پر سماعت سے انکار فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیل کا ملک بدری سے بچنے کیلئے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع یوکرین صدر کا روسی حملوں کی روک تھام کیلئے پیٹریاٹ دفاعی نظام کی فراہمی کا مطالبہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہڈیوں کے امراض کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے فرانس میں بدترین ہنگامے: صدر ایمانوئل کی حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار حوثیوں کے حملے: سعودیہ اور امارات کا قریبی روابط اور مشترکہ تعاون بڑھانے پر زور حوثی باغیوں کیساتھ سیاسی مذاکرات سے مسئلے کا حل نکلنے کی توقع نہیں: ڈاکٹر عبدالعزیز صقر نیب کے سہیل آفریدی کے معاون خصوصی ڈاکٹر امجد سمیت 5 افراد کو طلبی کے نوٹس جاری متحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق خیبرپختونخوا میں گورنر راج کسی لالچ میں نہیں لگایا گیا: شرجیل میمن

سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی

Web Desk

13 November 2025

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفیٰ صدرِ مملکت کو بھجوایا، جس میں انہوں نے لکھا کہ وہ صاف ضمیر کے ساتھ جا رہے ہیں اور انہیں کوئی پچھتاوا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملک کے آئین پر سنگین حملہ کیا گیا ہے، جس نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا قلم امانت ہے میرے لوگوں کی، اور احمد فراز کے اشعار کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار بھی کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ کے مطابق 27ویں ترمیم نے سپریم کورٹ کو تقسیم کر دیا، عدلیہ کی آزادی اور دیانت کو مجروح کر دیا، اور انصاف عام آدمی سے دور کر دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جس عدالت سے آئینی کردار ہی چھین لیا گیا، وہاں رہ کر حلف کی پاسداری ممکن نہیں۔ ایسے نظام کا حصہ بننا جو عدلیہ کی بنیاد کو کمزور کرے، میرے ضمیر کے خلاف ہے۔

دوسری جانب جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنے استعفے میں کہا کہ جس آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا تھا وہ آئین اب باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق تفصیلی خط چیف جسٹس پاکستان کو پہلے ہی لکھ چکا ہوں، لہٰذا استعفے میں دوبارہ تذکرہ ضروری نہیں سمجھتا۔

ذرائع کے مطابق دونوں ججوں کے استعفے صدرِ مملکت کو موصول ہو چکے ہیں، جس کے بعد عدلیہ میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔