LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع صرف3سے 5روزکےلیے کی، جلد ڈیل چاہتےہیں، امریکی میڈیا اگلے 36سے 72گھنٹوں میں پاکستان میں امریکا ایران مذاکرات ممکن ہیں،ٹرمپ سفارتی میدان میں ہونے والی پیش رفت پر نظررکھے ہوئے ہیں، ایرانی وزارت خارجہ آبنائے ہرمزکے قریب 3بحری جہازوں پر فائرنگ، 2جہازایرانی تحویل میں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر کی ملاقات: علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون پر اہم گفتگو برطانیہ کی امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت، اسحاق ڈار اور برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات حکومت اور آئی ایم ایف میں نئی آٹو پالیسی پر اتفاق، ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ پہلگام واقعہ کے ایک سال بعد بھی بھارت شواہد پیش نہ کر سکا: عطاء اللہ تارڑ ایران جنگ کی مخالفت: ایرانی نژاد امریکی رکن کانگریس یاسمین انصاری کو دھمکیاں زمین کے قدرتی وسائل انسانی زندگی کی بقا کیلئے ناگزیر ہیں: وزیراعظم جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام ایران سے حقائق پر بات کرنے کے بجائے اسے ٹرخایا گیا، دھمکیاں بھی دی گئیں: روس اقوام متحدہ کا جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم، پاکستانی کوششوں کی مکمل حمایت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ایران نے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی  شرائط مسترد کردیں: ایرانی سرکاری میڈیا

سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی

Web Desk

13 November 2025

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفیٰ صدرِ مملکت کو بھجوایا، جس میں انہوں نے لکھا کہ وہ صاف ضمیر کے ساتھ جا رہے ہیں اور انہیں کوئی پچھتاوا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملک کے آئین پر سنگین حملہ کیا گیا ہے، جس نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا قلم امانت ہے میرے لوگوں کی، اور احمد فراز کے اشعار کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار بھی کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ کے مطابق 27ویں ترمیم نے سپریم کورٹ کو تقسیم کر دیا، عدلیہ کی آزادی اور دیانت کو مجروح کر دیا، اور انصاف عام آدمی سے دور کر دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جس عدالت سے آئینی کردار ہی چھین لیا گیا، وہاں رہ کر حلف کی پاسداری ممکن نہیں۔ ایسے نظام کا حصہ بننا جو عدلیہ کی بنیاد کو کمزور کرے، میرے ضمیر کے خلاف ہے۔

دوسری جانب جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنے استعفے میں کہا کہ جس آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا تھا وہ آئین اب باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق تفصیلی خط چیف جسٹس پاکستان کو پہلے ہی لکھ چکا ہوں، لہٰذا استعفے میں دوبارہ تذکرہ ضروری نہیں سمجھتا۔

ذرائع کے مطابق دونوں ججوں کے استعفے صدرِ مملکت کو موصول ہو چکے ہیں، جس کے بعد عدلیہ میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔