LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یوکرین نے ایران کی دھمکیاں مسترد کر دیں، روسی جارحیت میں براہِ راست شمولیت کا الزام ایران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی، اندرونی معاملات میں مداخلت پر شدید احتجاج سیئٹل فوڈ فیسٹیول میں فائرنگ، ہلاکتیں 3 ہو گئیں، 4 افراد زخمی روس کو ہتھیار دے کر ایران پہلے ہی جنگ میں شامل ہو چکا ہے: زیلنسکی یوکرین بالآخر اپنے مغربی علاقے کھو دے گا: صدر پوتن کا دعویٰ اپر سوات میں غیر معیاری کشتیوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ بدخشان میں طالبان مخالف کارروائیاں تیز، مختلف اضلاع میں جھڑپیں، سییورٹی صورتحال کشیدہ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے غزہ کی صورتحال کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیدیا پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ؛ محکمہ داخلہ نے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ، بھارت حقائق مسخ نہیں کر سکتا: خواجہ آصف اسرائیل کے ساتھ لڑائی سے گریز، سکیورٹی معاہدے پر کام کر رہے ہیں: شامی صدر امریکی کانگریس کے وفد کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، دفاعی، تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ، پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلہ پر ایف پی سی سی آئی کا ردِ عمل آگیا وفاقی وزیرِ پٹرولیم کی آئل ٹینکر کنٹریکٹرز سے ملاقات، مسائل کے حل کیلئے کمیٹی قائم

سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی

Web Desk

13 November 2025

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفیٰ صدرِ مملکت کو بھجوایا، جس میں انہوں نے لکھا کہ وہ صاف ضمیر کے ساتھ جا رہے ہیں اور انہیں کوئی پچھتاوا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملک کے آئین پر سنگین حملہ کیا گیا ہے، جس نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا قلم امانت ہے میرے لوگوں کی، اور احمد فراز کے اشعار کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار بھی کیا۔ جسٹس منصور علی شاہ کے مطابق 27ویں ترمیم نے سپریم کورٹ کو تقسیم کر دیا، عدلیہ کی آزادی اور دیانت کو مجروح کر دیا، اور انصاف عام آدمی سے دور کر دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جس عدالت سے آئینی کردار ہی چھین لیا گیا، وہاں رہ کر حلف کی پاسداری ممکن نہیں۔ ایسے نظام کا حصہ بننا جو عدلیہ کی بنیاد کو کمزور کرے، میرے ضمیر کے خلاف ہے۔

دوسری جانب جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنے استعفے میں کہا کہ جس آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا تھا وہ آئین اب باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق تفصیلی خط چیف جسٹس پاکستان کو پہلے ہی لکھ چکا ہوں، لہٰذا استعفے میں دوبارہ تذکرہ ضروری نہیں سمجھتا۔

ذرائع کے مطابق دونوں ججوں کے استعفے صدرِ مملکت کو موصول ہو چکے ہیں، جس کے بعد عدلیہ میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔