LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی اپنی زندگیاں اور ٹیکس پرائی جنگ کیلئے استعمال نہ ہونے دیں، اسماعیل بقائی چین کا مشترکہ سلامتی کے فروغ پر زور ایران کے دیرینہ اصول کی عکاسی ہے، قالیباف دنیا کا نقشہ تبدیل ہوگا، اقوام متحدہ میں نئے عالمی نقشے کی قرارداد منظور کراچی: ڈیلیوری کے دوران گلے پر تیز دھار آلہ پھرنے سے نومولود جاں بحق یوکرین میں پرامن تصفیے کی ٹھوس شرائط ابھی موجود نہیں، روسی صدارتی ترجمان امریکا اور اسرائیل جنگ کے ذریعے ایران کو تقسیم کرنیکی کوشش کر رہے: مسعود پزشکیان ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کیلئے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا، ایگزیوس میلونی دوسری عالمی جنگ کے بعد طویل ترین حکومت کرنے والی وزیراعظم بن گئیں امریکا کیلئے مناسب لائحہ عمل یہ ہے کہ وہ خطے سے انخلا کرے، ترجمان ایرانی فوج ایرانی وزیر خارجہ کی اردن کے ہم منصب پر شدید تنقید ایرانی حکام کا جنگ کے دوران امریکا کے 370 طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو جدید ہتھیار بیچنے کی منظوری دے دی احسن اقبال نے ملک میں 15 نئے صوبوں کی تجویز دیدی لاہور سمیت بڑے شہروں سے میئر کا عہدہ ختم کرنے سے بلدیاتی نظام کمزور ہوگا: سعد رفیق امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین پر حملے کی دھمکی

علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف کیس جیتنے کے بعد خاموشی توڑ دی

Web Desk

3 April 2026

لاہور: ایڈیشنل سیشن جج نے علی ظفر کی جانب سے دائر کردہ ہتکِ عزت کے دعوے پر دو صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ میشا شفیع نے 19 اپریل 2018 کو جو ٹوئٹ کیا تھا، وہ ہتک آمیز اور جھوٹا تھا، اور وہ علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ عدالت نے میشا شفیع کو حکم دیا ہے کہ وہ علی ظفر کی شہرت کو نقصان پہنچانے اور ذہنی اذیت دینے کے بدلے 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کریں۔

فیصلے کے بعد علی ظفر نے انسٹاگرام پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی قسم کی “فتح” کا جشن نہیں منا رہے بلکہ صرف اللہ کے شکر گزار ہیں کہ حق کی جیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر ان کے خاندان کے لیے انتہائی کٹھن تھا لیکن اب یہ باب بند ہو چکا ہے۔ دوسری جانب، میشا شفیع نے اس فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قانونی جنگ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔