LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی حزب اللہ کا بھی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کیلئے جنیوا پہنچ گئے بلاول بھٹو زرداری کی برطانوی وزیر ہیمش فالکن سے ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو ایران نے جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، لبنان جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے: اسماعیل بقائی سفیر پاکستان کی چیچن رہنما سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق مانیٹری پالیسی کا اعلان: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کسی کو فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،مولانا فضل الرحمان صدر پوتن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 80ویں سالگرہ پر فون کر کے مبارکباد

پاکستان میں کرپٹو کرنسی اور ورچوئل اثاثوں کے لیے تاریخی قانون نافذ؛ اسٹیٹ بینک نے ریگولیٹری فریم ورک جاری کر دیا

Web Desk

15 April 2026

پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ورچوئل اثاثوں (Virtual Assets) کو قانونی حیثیت دینے اور ان کی باقاعدہ نگرانی کے لیے نیا قانون نافذ کر دیا ہے۔ اس نئے فریم ورک کے تحت “پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی” (PVARA) قائم کی گئی ہے جو تمام ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والے اداروں (VASPs) کو لائسنس جاری کرنے اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کی ذمہ دار ہوگی۔ اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹڈ ادارے اب صرف ان سروس فراہم کنندگان کے اکاؤنٹس کھول سکیں گے جن کے پاس باقاعدہ لائسنس موجود ہوگا۔

نئے قانون کے مطابق، بینکوں کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ کسی بھی وی اے ایس پی (VASP) کا اکاؤنٹ کھولنے سے پہلے اس کے لائسنس کی مکمل تصدیق کریں اور ان کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی یقینی بنائیں۔ صارفین کے تحفظ کے لیے یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ صارفین کے فنڈز کے لیے علیحدہ “کلائنٹ منی اکاؤنٹس” کھولے جائیں گے، اور کمپنی کے اپنے فنڈز کو صارفین کی رقوم کے ساتھ ملانا سختی سے ممنوع ہوگا۔ یہ تمام اکاؤنٹس صرف پاکستانی روپے میں چلائے جائیں گے اور ان میں نقد رقم جمع کرانے یا نکلوانے (Cash In/Out) کی اجازت نہیں ہوگی، تمام لین دین بینکنگ چینلز کے ذریعے ہوگا۔

اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ بینک اپنے ذاتی فنڈز یا صارفین کی جمع شدہ رقوم کو ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ، بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مشکوک لین دین کی فوری رپورٹ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (FMU) کو کریں تاکہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے خطرات کا سدِباب کیا جا سکے۔ ماہرینِ معیشت اس اقدام کو پاکستان میں فن ٹیک (FinTech) سیکٹر کے لیے سنگِ میل قرار دے رہے ہیں، جس سے جہاں سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ ملے گا، وہاں ملکی معیشت میں دستاویزی لین دین کو بھی فروغ حاصل ہوگا