LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خلیج میں لنگرانداز جہاز  حرکت نہ کریں ، پاسداران انقلاب کی سخت وارننگ ڈیزل سے بھرا پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز سے داخل ہوکر واپس لوٹ گیا ضلعی انتظامیہ نے اسلام آباد میں دکانیں اور بس اڈے بند ہونے کی خبروں کی تردید کردی فیلڈمارشل عاصم منیرکی تہران آمدپرپیش کردہ امریکی تجاویزکاجائزہ لے رہےہیں، ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل امریکا سے مذاکرات کےدوسرے مرحلے کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، ایرانی نائب وزیرخارجہ اچھے مذاکرات چل رہے ہیں، ایران آبنائے ہرمز کےذریعے بلیک ملیک نہیں کرسکتا، ٹرمپ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کردی ایرانی بحریہ دشمنوں کو شکست دینے کےلیے تیارہے، مجتبیٰ خامنہ ای امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات

ٹیکساس میں قید 5 سالہ بچے کو ملک بدر کیا جائے گا، امریکی عدالت کا فیصلہ

Web Desk

7 February 2026

واشنگٹن: امریکی عدالت نے ٹیکساس کے امیگریشن حراستی مرکز میں قید 5 سالہ بچے کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمۂ داخلی سلامتی کے مطابق یہ 5 سالہ بچہ گزشتہ ماہ مینیسوٹا سے حراست میں لیا گیا تھا اور اب اسے واپس ایکواڈور بھیجنے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔

محکمے نے واضح کیا کہ بچے کو فوری یا ہنگامی طور پر ملک بدر نہیں کیا جا رہا، جبکہ بچے کے وکیل ڈینیئل مولیور نے اس اقدام کو غیر معمولی اور ممکنہ انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ ترجمان محکمہ داخلی سلامتی ٹریشیا میک لافلن کا کہنا ہے کہ یہ معمول کی ملک بدری کی کارروائیاں ہیں اور کوئی انتقامی پہلو شامل نہیں۔

امیگریشن حکام کے مطابق یہ کارروائی بچے کے والد کے خلاف تھی، جنہیں غیر قانونی تارکِ وطن قرار دیا گیا تھا۔ 5 سالہ لیام کونیخو راموس اور والد ایڈرین کونیخو آریاس قانونی طور پر پناہ کے درخواست گزار کے طور پر امریکا میں داخل ہوئے تھے۔

اس معاملے میں لیام کی گرفتاری کے وقت کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں وہ نیلے رنگ کی خرگوش نما ٹوپی اور اسپائیڈر مین کا بیگ پہنے ہوئے نظر آئے تھے، جس کے بعد یہ واقعہ ملک بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔