LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے اعلیٰ سطحی اجلاس کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کابینہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، پی این ایس سی بورڈ کو مضبوط بنانے پر اتفاق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 59 روپے تک کمی ہوگی: اسحاق ڈار امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی پر اسلام آباد میں ‘آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش’ کا انعقاد؛ پاک آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان

معروف اردو صحافی و شاعر انتقال کر گئے

Web Desk

2 February 2026

نئی دہلی: بھارت کے معروف اردو صحافی، شاعر اور نامور اردو اخبار کے ایڈیٹر سید اسد رضا نقوی کا نئی دہلی میں انتقال ہو گیا۔ مرحوم کی عمر 74 برس تھی۔

سید اسد رضا نقوی بھارت میں اردو صحافت کی نمایاں اور معتبر شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ اپنے طنزیہ اور مزاحیہ اسلوبِ تحریر کے لیے خاص پہچان رکھتے تھے اور ان کی تحریریں معاشرتی مسائل پر شعور اجاگر کرتی تھیں۔

صحافت کے ساتھ ساتھ مرحوم شاعری کے میدان میں بھی سرگرم تھے۔ ان کی شاعری میں طنز، مزاح اور سماجی ناہمواریوں کی بھرپور عکاسی ملتی تھی۔ انہوں نے غزل، نظم اور دیگر اصناف میں طبع آزمائی کی اور اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔

ریختہ ویب سائٹ پر سید اسد رضا نقوی کا پروفائل موجود ہے، جہاں ان کی تخلیقات محفوظ ہیں اور آج بھی قارئین اور ادب سے وابستہ افراد کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں۔

ان کے انتقال پر ادبی، صحافتی اور سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور متعدد صحافیوں، شاعروں اور ادیبوں نے ان کے انتقال کو اردو زبان و ادب کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔

مرحوم کی خدمات کو اردو صحافت اور ادب میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔