LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر کا ایلون مسک سے رابطہ، یوکرین کیلئے انٹرنیٹ سروس پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ چین کے علاقے تبت میں 7 شدت کا زلزلہ، زمین لرز اٹھی، لوگوں میں شدید خوف و ہراس یورپ میں مظاہروں میں شدت: فرانس میں مرکزی طلبہ یونین کی ہفتہ کو احتجاجی ریلیوں کی کال اس بار اسرائیل ٹرمپ سے پوچھے بغیر ایران پر حملہ کرے گا، نیتن یاہو امریکی صدر ٹرمپ کی معاشی کارکردگی کی منظوری کی شرح تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی پی ٹی آئی کی پارلیمانی سیاست میں گنڈا پور کی واپسی، مذاکراتی عمل میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے کا فیصلہ ایران میں امریکی ڈالر کی خریداری کے لیے نئے ضوابط نافذ کردیے گئے امریکا خاموشی سے مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں میں کمی کر رہا ہے، امریکی ٹی وی کا دعویٰ ایران اسرائیل پر حملےکیلئے ایٹم بم بنا رہا ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ حماس دوبارہ جنگ کیلئے تیار ہے، اسے فوجی طاقت کے ذریعے ہی غیر مسلح کیا جاسکتا ہے: اسرائیلی انٹیلیجنس رپورٹ کراچی: بین الاقوامی خفیہ ایجنسی کی اطلاع پر آن لائن نیٹ ورک کے شکنجے میں پھنسی بچی کو بچا لیا گیا سعودیہ پاکستان ریئل سٹیٹ ایکسپو بزنس کمیونٹی کیلئے گیم چینجر ہے: آصف زرداری اسلام آباد میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث گروہ بے نقاب، 5 ملزم گرفتار ٹرمپ کا ایران پر تیل کی قیمتیں بڑھانے اور جھوٹی خبریں پھیلانے کا الزام پٹرول ایک روپے 60 پیسے فی لٹر سستا، ڈیزل مہنگا ہو گیا

معروف اردو صحافی و شاعر انتقال کر گئے

Web Desk

2 February 2026

نئی دہلی: بھارت کے معروف اردو صحافی، شاعر اور نامور اردو اخبار کے ایڈیٹر سید اسد رضا نقوی کا نئی دہلی میں انتقال ہو گیا۔ مرحوم کی عمر 74 برس تھی۔

سید اسد رضا نقوی بھارت میں اردو صحافت کی نمایاں اور معتبر شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ اپنے طنزیہ اور مزاحیہ اسلوبِ تحریر کے لیے خاص پہچان رکھتے تھے اور ان کی تحریریں معاشرتی مسائل پر شعور اجاگر کرتی تھیں۔

صحافت کے ساتھ ساتھ مرحوم شاعری کے میدان میں بھی سرگرم تھے۔ ان کی شاعری میں طنز، مزاح اور سماجی ناہمواریوں کی بھرپور عکاسی ملتی تھی۔ انہوں نے غزل، نظم اور دیگر اصناف میں طبع آزمائی کی اور اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔

ریختہ ویب سائٹ پر سید اسد رضا نقوی کا پروفائل موجود ہے، جہاں ان کی تخلیقات محفوظ ہیں اور آج بھی قارئین اور ادب سے وابستہ افراد کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں۔

ان کے انتقال پر ادبی، صحافتی اور سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور متعدد صحافیوں، شاعروں اور ادیبوں نے ان کے انتقال کو اردو زبان و ادب کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔

مرحوم کی خدمات کو اردو صحافت اور ادب میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔