LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی سینیٹربرنی سینڈرز کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مستقل پابندی لگانے کی تجویز اسرائیلی انتہا پسند وزیر کا غزہ سے فلسطینیوں کی بیرون ملک منتقلی کا منصوبہ پیش ایران میں امریکی حملے میں شہید ہونے والے شہریوں کی تدفین کر دی گئی امریکی اقتصادی پابندیاں: ایران پر شدید معاشی دباؤ، مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ روسی ایس یو 57 ای لڑاکا طیارے سے لانچ ہونے والے اسٹیلتھ ڈرونز عالمی نمائش کیلئے تیار سعودی ولی عہد کا مصری صدر سے رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال جرمنی کی موجودہ قیادت نازی طرز عمل کی طرف لوٹ رہی ہے، دیمتری میدویدیف روس نے ایران سے ’دوری‘ اختیار کرنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن طویل تعیناتی کے بعد تھائی لینڈ پہنچ گیا روس کے کیف پر تازہ حملے میں بچے سمیت 10 افراد زخمی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو تباہی کے دہانے پر قرار دیدیا کیف میں دو یوکرینی سکیورٹی اداروں کے درمیان فائرنگ، 3 انٹیلی جنس اہلکار زخمی امریکا چاہتا ہے مڈٹرم الیکشن تک جنگ جاری رہے: برطانوی میڈیا چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری پیرس سے لندن پہنچ گئے بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، کشمیر کیلئے سزائے موت بھی قبول ہے: یاسین ملک

سعود نے مجھ سے ایک سوئی برابر بھی جہیز نہیں لیا: جویریہ سعود

Web Desk

22 March 2026

کراچی: پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینیئر اداکارہ اور میزبان جویریہ سعود نے جہیز اور حق مہر جیسی سماجی روایات پر گفتگو کرتے ہوئے اپنی ازدواجی زندگی کے ابتدائی دنوں کی یادیں تازہ کر دیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن کے دوران، جہاں وہ میزبانی کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں، انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے شوہر اداکار سعود نے شادی کے وقت کسی بھی قسم کا جہیز لینے سے مکمل انکار کر دیا تھا۔

جویریہ سعود کا کہنا تھا کہ ان کا حق مہر محض 51 ہزار روپے مقرر کیا گیا تھا، جبکہ گھر کے تمام اخراجات، فرنیچر اور دیگر ضروری اشیاء کا انتظام سعود نے خود اپنی جیب سے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ رشتہ داروں کی جانب سے تحفے میں فریج اور برتن جیسی اشیاء ملی تھیں، لیکن سعود نے لڑکی والوں کی طرف سے بطورِ جہیز کچھ بھی قبول نہیں کیا۔

اداکارہ نے مزید بتایا کہ سعود نے نہ صرف جہیز کی حوصلہ شکنی کی بلکہ شادی کی تمام تقریبات، یہاں تک کہ مہندی کا انتظام اور اخراجات بھی خود برداشت کیے تاکہ دلہن کے گھر والوں پر کوئی مالی بوجھ نہ پڑے۔ جویریہ نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ ہر لڑکی کو ایسا باشعور شریکِ حیات نصیب ہو جو جہیز کا مطالبہ کرنے کے بجائے اس فرسودہ روایت کے خاتمے میں اپنا عملی کردار ادا کرے۔