LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے اعلیٰ سطحی اجلاس کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کابینہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، پی این ایس سی بورڈ کو مضبوط بنانے پر اتفاق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 59 روپے تک کمی ہوگی: اسحاق ڈار امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی پر اسلام آباد میں ‘آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش’ کا انعقاد؛ پاک آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان

اسلام آباد مذاکرات: غیر ملکی صحافیوں کے لیے نئی ایس او پیز جاری؛ ایران اور امریکہ کے میڈیا کو ‘ویزہ آن ارائیول’ کی سہولت

Web Desk

10 April 2026

وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کی کوریج کے لیے آنے والے بین الاقوامی صحافیوں اور میڈیا نمائندگان کے حوالے سے نئی ضابطہ کار (ایس او پیز) جاری کر دی ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، ان مذاکرات کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کوریج کے عمل کو سہل اور منظم بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت، ‘ویزہ آن ارائیول’ (پاکستان پہنچنے پر ویزہ کے حصول) کی سہولت صرف ان میڈیا نمائندگان کو حاصل ہوگی جن کا تعلق امریکہ اور ایران سے ہے۔

ترجمان نے مزید واضح کیا کہ دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو مروجہ طریقہ کار کے مطابق ویزہ حاصل کرنا ہوگا، تاہم امریکہ اور ایران کے صحافیوں کو یہ رعایت مذاکرات کی حساسیت اور ان ممالک کی براہِ راست دلچسپی کے باعث دی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ان ایس او پیز کا مقصد مذاکرات کے دوران سکیورٹی اور سفارتی پروٹوکول کو یقینی بنانا ہے تاکہ عالمی میڈیا ان اہم مذاکرات کی رپورٹنگ کسی رکاوٹ کے بغیر کر سکے۔