LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قطر میں منجمد 12 ارب ڈالرز میں نصف رقم جلد ہمارے حوالے کردی جائے گی؛ ایرانی صدر مالی سال کے آخری ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب 48 کروڑ ڈالر سے زائد ہوگئے جنوبی لبنان سے انخلا حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے سے مشروط ہے: اسرائیل ایران نے قطر میں امریکا سے مجوزہ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی کہوٹہ میں قیدیوں کی وین سے 14 فرار، 4 دوبارہ گرفتار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا دن، 6 وکلا کی فہرست جیل حکام کو جمع سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر کا آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی پر زور پانی پاکستان کی بقا کا معاملہ، کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: حکومتِ پاکستان افغان ناظم الامور کو کراچی حملے کے حوالے سے ڈیمارش تھمایا گیا۔ ترجمان سپریم کورٹ آزاد کشمیرکا پی ٹی آئی ک رجسٹریشن کا عبوری فیصلہ معطل کر دیا عوام پر رعب جھاڑنے والوں کی پیرا فورس میں کوئی جگہ نہیں: مریم نواز پنجاب میں یونین کونسلز کی حدبندی کا نظرثانی شدہ شیڈول جاری سانحہ گل پلازہ: چالان پراسیکیوشن کو جمع، مارکیٹ یونین عہدیداران ملزم نامزد کراچی سمیت ملک بھر کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان پنڈی کہوٹہ روڈ پر اسلام آباد پولیس نے اپوزیشن قیادت کو کشمیر جانے سے روک دیا

غیر معمولی قیدیوں کو بھی صرف 14 دن تک قید تنہائی تک رکھا جا سکتا ہے ، سلمان صفدر

Web Desk

29 June 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی (Solitary Confinement) کے خلاف دائر درخواستوں پر اہم سماعت ہوئی، جس کے دوران وکلاء صفائی نے جیل حکام کے رویے کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس خادم حسین سومرو نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خانم اور بشریٰ بی بی کی صاحبزادی مبشرہ خاور مانیکا کی جانب سے دائر کردہ دونوں متفرق درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر معزز جج نے ریمارکس دیے کہ ان درخواستوں پر رجسٹرار آفس کی جانب سے ‘متاثرہ فریق نہ ہونے’ (Aggrieved Party) کے تزویراتی اعتراضات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے تاریخی عدالتی نظائر پیش کیے اور مؤقف اختیار کیا کہ اگر ایسے سنگین حالات میں قیدیوں کے قریبی فیملی ممبران عدالت سے رجوع نہیں کریں گے تو پھر کون آئے گا؟ انہوں نے مروجہ قانونی نظیروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کی قید کے خلاف بیگم نصرت بھٹو نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جبکہ بیگم شمیم آفریدی کیس میں بھی ایک قیدی کی بیوی نے قیدِ تنہائی کو چیلنج کیا تھا، جس پر جسٹس خادم حسین سومرو نے بیرسٹر سلمان صفدر سے مذکورہ فیصلے کا متعلقہ پیراگراف پڑھنے کی ہدایت کی جو انہوں نے عدالت کے سامنے پڑھ کر سنایا۔ سلمان صفدر نے یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں میاں نواز شریف کی اسی نوعیت کی پٹیشن میں ان کے بھائی شہباز شریف بھی عدالت آئے تھے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے ساتھ جیل میں روا رکھے جانے والے مبینہ سلوک کی تفصیلات بتاتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا کہ بشریٰ بی بی سے دسمبر سے اب تک ان کی کوئی ملاقات نہیں ہو سکی، جبکہ بانی پی ٹی آئی سے بھی صرف دو ملاقاتیں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے واضح احکامات پر ممکن ہوئیں۔ انہوں نے اصرار کیا کہ دونوں میاں بیوی کو گزشتہ 7 ماہ سے سخت ترین قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے؛ ان کے پاس نہ ٹی وی ہے اور نہ ہی اخبارات تک رسائی دی جا رہی ہے، یہاں تک کہ بانی پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ جیل میں عملہ ان کے سلام کا جواب تک نہیں دیتا۔ وکیلِ صفائی نے تزویراتی نقطہ اٹھایا کہ ملزمان کے خلاف جاری کردہ اصل عدالتی فیصلوں میں کہیں بھی قیدِ تنہائی کی سزا کا ذکر موجود نہیں، اور مروجہ جیل قوانین کے تحت غیر معمولی قیدیوں کو بھی زیادہ سے زیادہ صرف 14 دن تک قیدِ تنہائی میں رکھا جا سکتا ہے، لہٰذا یہ طویل سلوک سراسر غیر قانونی ہے۔

سماعت کے دوران جب عدالت نے استفسار کیا کہ اپیلوں کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے متعلقہ فورم پر جانے کے زبانی حکم کی کاپی کہاں ہے، تو سلمان صفدر نے بتایا کہ جیل مقدمات میں مصدقہ کاپیاں ملنے میں شدید تزویراتی مشکلات کا سامنا ہے۔ عدالت نے معاملے کی سنگینی کے پیشِ نظر نیب پراسیکوٹر رافع مقصود کو روسٹرم پر طلب کیا۔ نیب پراسیکوٹر نے وکلاء صفائی کے مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے دلیلو ں کا رخ موڑنے کی کوشش کی اور کہا کہ بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد عدالت کو کبھی باقاعدہ طور پر یہ نہیں بتایا تھا کہ انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، بلکہ انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ انہیں سزا معطلی کی درخواستوں پر دلائل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس پر بیرسٹر سلمان صفدر نے واضح کیا کہ ہم نے مرکزی اپیلوں کے ساتھ یہ متفرق درخواست تحریری طور پر ریکارڈ پر لا رکھی ہے۔ ہائیکورٹ نے دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت کو ملتوی کر دیا۔