غیر معمولی قیدیوں کو بھی صرف 14 دن تک قید تنہائی تک رکھا جا سکتا ہے ، سلمان صفدر
Web Desk
29 June 2026
اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی (Solitary Confinement) کے خلاف دائر درخواستوں پر اہم سماعت ہوئی، جس کے دوران وکلاء صفائی نے جیل حکام کے رویے کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس خادم حسین سومرو نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خانم اور بشریٰ بی بی کی صاحبزادی مبشرہ خاور مانیکا کی جانب سے دائر کردہ دونوں متفرق درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر معزز جج نے ریمارکس دیے کہ ان درخواستوں پر رجسٹرار آفس کی جانب سے ‘متاثرہ فریق نہ ہونے’ (Aggrieved Party) کے تزویراتی اعتراضات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے تاریخی عدالتی نظائر پیش کیے اور مؤقف اختیار کیا کہ اگر ایسے سنگین حالات میں قیدیوں کے قریبی فیملی ممبران عدالت سے رجوع نہیں کریں گے تو پھر کون آئے گا؟ انہوں نے مروجہ قانونی نظیروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو کی قید کے خلاف بیگم نصرت بھٹو نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، جبکہ بیگم شمیم آفریدی کیس میں بھی ایک قیدی کی بیوی نے قیدِ تنہائی کو چیلنج کیا تھا، جس پر جسٹس خادم حسین سومرو نے بیرسٹر سلمان صفدر سے مذکورہ فیصلے کا متعلقہ پیراگراف پڑھنے کی ہدایت کی جو انہوں نے عدالت کے سامنے پڑھ کر سنایا۔ سلمان صفدر نے یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں میاں نواز شریف کی اسی نوعیت کی پٹیشن میں ان کے بھائی شہباز شریف بھی عدالت آئے تھے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے ساتھ جیل میں روا رکھے جانے والے مبینہ سلوک کی تفصیلات بتاتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا کہ بشریٰ بی بی سے دسمبر سے اب تک ان کی کوئی ملاقات نہیں ہو سکی، جبکہ بانی پی ٹی آئی سے بھی صرف دو ملاقاتیں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے واضح احکامات پر ممکن ہوئیں۔ انہوں نے اصرار کیا کہ دونوں میاں بیوی کو گزشتہ 7 ماہ سے سخت ترین قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے؛ ان کے پاس نہ ٹی وی ہے اور نہ ہی اخبارات تک رسائی دی جا رہی ہے، یہاں تک کہ بانی پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ جیل میں عملہ ان کے سلام کا جواب تک نہیں دیتا۔ وکیلِ صفائی نے تزویراتی نقطہ اٹھایا کہ ملزمان کے خلاف جاری کردہ اصل عدالتی فیصلوں میں کہیں بھی قیدِ تنہائی کی سزا کا ذکر موجود نہیں، اور مروجہ جیل قوانین کے تحت غیر معمولی قیدیوں کو بھی زیادہ سے زیادہ صرف 14 دن تک قیدِ تنہائی میں رکھا جا سکتا ہے، لہٰذا یہ طویل سلوک سراسر غیر قانونی ہے۔
سماعت کے دوران جب عدالت نے استفسار کیا کہ اپیلوں کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے متعلقہ فورم پر جانے کے زبانی حکم کی کاپی کہاں ہے، تو سلمان صفدر نے بتایا کہ جیل مقدمات میں مصدقہ کاپیاں ملنے میں شدید تزویراتی مشکلات کا سامنا ہے۔ عدالت نے معاملے کی سنگینی کے پیشِ نظر نیب پراسیکوٹر رافع مقصود کو روسٹرم پر طلب کیا۔ نیب پراسیکوٹر نے وکلاء صفائی کے مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے دلیلو ں کا رخ موڑنے کی کوشش کی اور کہا کہ بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد عدالت کو کبھی باقاعدہ طور پر یہ نہیں بتایا تھا کہ انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، بلکہ انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ انہیں سزا معطلی کی درخواستوں پر دلائل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس پر بیرسٹر سلمان صفدر نے واضح کیا کہ ہم نے مرکزی اپیلوں کے ساتھ یہ متفرق درخواست تحریری طور پر ریکارڈ پر لا رکھی ہے۔ ہائیکورٹ نے دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت کو ملتوی کر دیا۔
متعلقہ عنوانات
پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق
20 August 2026
مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال
20 August 2026
لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ
20 August 2026
ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی
20 August 2026
پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن
20 August 2026
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس
20 August 2026
حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل
20 August 2026
محنت اور خون پسینے کی کمائی کو رشوت کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا: مریم نواز
20 August 2026