LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی سینیٹربرنی سینڈرز کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مستقل پابندی لگانے کی تجویز اسرائیلی انتہا پسند وزیر کا غزہ سے فلسطینیوں کی بیرون ملک منتقلی کا منصوبہ پیش ایران میں امریکی حملے میں شہید ہونے والے شہریوں کی تدفین کر دی گئی امریکی اقتصادی پابندیاں: ایران پر شدید معاشی دباؤ، مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ روسی ایس یو 57 ای لڑاکا طیارے سے لانچ ہونے والے اسٹیلتھ ڈرونز عالمی نمائش کیلئے تیار سعودی ولی عہد کا مصری صدر سے رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال جرمنی کی موجودہ قیادت نازی طرز عمل کی طرف لوٹ رہی ہے، دیمتری میدویدیف روس نے ایران سے ’دوری‘ اختیار کرنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن طویل تعیناتی کے بعد تھائی لینڈ پہنچ گیا روس کے کیف پر تازہ حملے میں بچے سمیت 10 افراد زخمی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو تباہی کے دہانے پر قرار دیدیا کیف میں دو یوکرینی سکیورٹی اداروں کے درمیان فائرنگ، 3 انٹیلی جنس اہلکار زخمی امریکا چاہتا ہے مڈٹرم الیکشن تک جنگ جاری رہے: برطانوی میڈیا چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری پیرس سے لندن پہنچ گئے بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، کشمیر کیلئے سزائے موت بھی قبول ہے: یاسین ملک

شاعرِ عوام حبیب جالب کا آج 98 واں یوم پیدائش منایا جا رہا ہے

Web Desk

24 March 2026

ہر دور کے جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے والے منفرد لہجے کے حامل شاعرِ عوام حبیب جالب کا آج 98 واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے۔ 24 مارچ 1928ء کو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہونے والے حبیب احمد، جو دنیا بھر میں ‘حبیب جالب’ کے نام سے مشہور ہوئے، تقسیمِ ہند کے بعد کراچی اور پھر لاہور منتقل ہو گئے تھے۔

حبیب جالب نے اپنی شاعری کا آغاز رومانوی غزلوں سے کیا، تاہم معاشرے میں بڑھتے ہوئے جبر، استحصال اور ناانصافی کو دیکھ کر ان کا قلم انقلابی رنگ میں ڈھل گیا۔ انہوں نے آمریت کے خلاف جو بھی شعر کہا، وہ زبان زدِ عام ہوا۔ جالب نے صدر ایوب کے دور میں محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھرپور حصہ لیا اور اپنی نظموں کے ذریعے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی۔ ان کی عوامی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ فیض احمد فیض جیسے عظیم شاعر بھی انہیں ‘عوامی شاعر’ پکارتے تھے۔

ان کے مشہور شعری مجموعوں میں برگِ آوارہ، سرِ مقتل، عہدِ ستم، حرفِ حق، ذکر بہتے خون کا، عہدِ سزا، گنبدِ بے در، گوشے میں قفس کے، حرفِ سرِ دار اور چاروں جانب سناٹا شامل ہیں۔ جالب نے فلمی دنیا کے لیے بھی لازوال گیت تخلیق کیے، جن میں فلم ‘زرقا’ کے لیے ان کے لکھے گئے گیت کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ حبیب جالب آج جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، لیکن ان کی ضمیر کو جنجھوڑتی شاعری آج بھی مظلوموں اور حق پرستوں کے دلوں میں زندہ ہے۔