LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، ٹینریز ایسوسی ایشن ٹیکس وصولی کے لیے ایف بی آر کے تمام دفاتر 30 مئی کو کھلے رہیں گے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی واشنگٹن میں ملاقات، پاک امریکا تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ابراہیمی معاہدے سے متعلق افواہیں بے بنیاد، فلسطین پر مؤقف میں کوئی لچک نہیں: اسحاق ڈار راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا آج پہلے ون ڈے میں آمنے سامنے فرنچ اوپن 2026 میں سنسنی خیز اپ سیٹ، نواک جوکووچ نوجوان کھلاڑی سے ہار گئے پیٹرول اور ڈیزل 22 روپے سستا، نئی قیمتیں 381 روپے 78 پیسے اور 380 روپے 78 پیسے مقرر میئر نیویارک زہران ممدانی کا اسرائیل ڈے پریڈ میں شرکت سے انکار امریکی قانون کےبرخلاف صدر ٹرمپ کی تصویر ڈالر پر چھاپنے کی تیاریاں کراچی پورٹ کے قریب دو بحری جہازوں میں خوفناک تصادم، کنٹینرز سمندر میں گر گئے گلگت بلتستان کی الیکشن مہم کے دوران پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر گرفتار امریکی حکام کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات قابلِ مذمت ہیں: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسلام آباد: سیکٹر آئی 10 میں واقع گھر میں سلنڈر دھماکا، 2 افراد جاں بحق صوبائی حکومت نے پنجاب لیبر کوڈ 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار واشنگٹن پہنچ گئے

شاعرِ عوام حبیب جالب کا آج 98 واں یوم پیدائش منایا جا رہا ہے

Web Desk

24 March 2026

ہر دور کے جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے والے منفرد لہجے کے حامل شاعرِ عوام حبیب جالب کا آج 98 واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے۔ 24 مارچ 1928ء کو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہونے والے حبیب احمد، جو دنیا بھر میں ‘حبیب جالب’ کے نام سے مشہور ہوئے، تقسیمِ ہند کے بعد کراچی اور پھر لاہور منتقل ہو گئے تھے۔

حبیب جالب نے اپنی شاعری کا آغاز رومانوی غزلوں سے کیا، تاہم معاشرے میں بڑھتے ہوئے جبر، استحصال اور ناانصافی کو دیکھ کر ان کا قلم انقلابی رنگ میں ڈھل گیا۔ انہوں نے آمریت کے خلاف جو بھی شعر کہا، وہ زبان زدِ عام ہوا۔ جالب نے صدر ایوب کے دور میں محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھرپور حصہ لیا اور اپنی نظموں کے ذریعے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی۔ ان کی عوامی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ فیض احمد فیض جیسے عظیم شاعر بھی انہیں ‘عوامی شاعر’ پکارتے تھے۔

ان کے مشہور شعری مجموعوں میں برگِ آوارہ، سرِ مقتل، عہدِ ستم، حرفِ حق، ذکر بہتے خون کا، عہدِ سزا، گنبدِ بے در، گوشے میں قفس کے، حرفِ سرِ دار اور چاروں جانب سناٹا شامل ہیں۔ جالب نے فلمی دنیا کے لیے بھی لازوال گیت تخلیق کیے، جن میں فلم ‘زرقا’ کے لیے ان کے لکھے گئے گیت کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ حبیب جالب آج جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، لیکن ان کی ضمیر کو جنجھوڑتی شاعری آج بھی مظلوموں اور حق پرستوں کے دلوں میں زندہ ہے۔