LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر آصف علی زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال آئینِ پاکستان کو نہ ماننے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی: فیصل کریم پولیس پر تشدد کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر فرد جرم کی تاریخ مقرر ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے: آئینی عدالت 4 اکتوبر کا لانگ مارچ فی الحال حتمی ہے، مگر حالات کے مطابق فیصلے کا حق رکھتے ہیں: سینیٹر علی ظفر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری نیتن یاہو نے اماراتی صدر کی دعوت پر ابوظہبی کا دورہ کیا: اسرائیلی وزیراعظم دفتر حافظ نعیم سے منسوب لغو بات پھیلائی جا رہی ہے: لیاقت بلوچ قطر نے ہمارے مؤقف سے امریکا کو آگاہ کر دیا، اب جواب کا انتظار ہے: عراقچی پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی عائد سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے: مولانا طاہر اشرفی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل

شاعرِ عوام حبیب جالب کا آج 98 واں یوم پیدائش منایا جا رہا ہے

Web Desk

24 March 2026

ہر دور کے جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے والے منفرد لہجے کے حامل شاعرِ عوام حبیب جالب کا آج 98 واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے۔ 24 مارچ 1928ء کو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہونے والے حبیب احمد، جو دنیا بھر میں ‘حبیب جالب’ کے نام سے مشہور ہوئے، تقسیمِ ہند کے بعد کراچی اور پھر لاہور منتقل ہو گئے تھے۔

حبیب جالب نے اپنی شاعری کا آغاز رومانوی غزلوں سے کیا، تاہم معاشرے میں بڑھتے ہوئے جبر، استحصال اور ناانصافی کو دیکھ کر ان کا قلم انقلابی رنگ میں ڈھل گیا۔ انہوں نے آمریت کے خلاف جو بھی شعر کہا، وہ زبان زدِ عام ہوا۔ جالب نے صدر ایوب کے دور میں محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھرپور حصہ لیا اور اپنی نظموں کے ذریعے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی۔ ان کی عوامی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ فیض احمد فیض جیسے عظیم شاعر بھی انہیں ‘عوامی شاعر’ پکارتے تھے۔

ان کے مشہور شعری مجموعوں میں برگِ آوارہ، سرِ مقتل، عہدِ ستم، حرفِ حق، ذکر بہتے خون کا، عہدِ سزا، گنبدِ بے در، گوشے میں قفس کے، حرفِ سرِ دار اور چاروں جانب سناٹا شامل ہیں۔ جالب نے فلمی دنیا کے لیے بھی لازوال گیت تخلیق کیے، جن میں فلم ‘زرقا’ کے لیے ان کے لکھے گئے گیت کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ حبیب جالب آج جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، لیکن ان کی ضمیر کو جنجھوڑتی شاعری آج بھی مظلوموں اور حق پرستوں کے دلوں میں زندہ ہے۔