LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے اعلیٰ سطحی اجلاس کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کابینہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، پی این ایس سی بورڈ کو مضبوط بنانے پر اتفاق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 59 روپے تک کمی ہوگی: اسحاق ڈار امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی پر اسلام آباد میں ‘آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش’ کا انعقاد؛ پاک آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان

شاعرِ عوام حبیب جالب کا آج 98 واں یوم پیدائش منایا جا رہا ہے

Web Desk

24 March 2026

ہر دور کے جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے والے منفرد لہجے کے حامل شاعرِ عوام حبیب جالب کا آج 98 واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے۔ 24 مارچ 1928ء کو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہونے والے حبیب احمد، جو دنیا بھر میں ‘حبیب جالب’ کے نام سے مشہور ہوئے، تقسیمِ ہند کے بعد کراچی اور پھر لاہور منتقل ہو گئے تھے۔

حبیب جالب نے اپنی شاعری کا آغاز رومانوی غزلوں سے کیا، تاہم معاشرے میں بڑھتے ہوئے جبر، استحصال اور ناانصافی کو دیکھ کر ان کا قلم انقلابی رنگ میں ڈھل گیا۔ انہوں نے آمریت کے خلاف جو بھی شعر کہا، وہ زبان زدِ عام ہوا۔ جالب نے صدر ایوب کے دور میں محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی مہم میں بھرپور حصہ لیا اور اپنی نظموں کے ذریعے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی۔ ان کی عوامی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ فیض احمد فیض جیسے عظیم شاعر بھی انہیں ‘عوامی شاعر’ پکارتے تھے۔

ان کے مشہور شعری مجموعوں میں برگِ آوارہ، سرِ مقتل، عہدِ ستم، حرفِ حق، ذکر بہتے خون کا، عہدِ سزا، گنبدِ بے در، گوشے میں قفس کے، حرفِ سرِ دار اور چاروں جانب سناٹا شامل ہیں۔ جالب نے فلمی دنیا کے لیے بھی لازوال گیت تخلیق کیے، جن میں فلم ‘زرقا’ کے لیے ان کے لکھے گئے گیت کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ حبیب جالب آج جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، لیکن ان کی ضمیر کو جنجھوڑتی شاعری آج بھی مظلوموں اور حق پرستوں کے دلوں میں زندہ ہے۔