معروف ناول نگار اور ڈرامہ نویس بانو قدسیہ کو بچھڑے 9 برس بیت گئے
Web Desk
4 February 2026
معروف ناول نگار اور ڈرامہ نویس بانو قدسیہ کو ہم سے بچھڑے 9 برس بیت گئے۔ اردو ادب میں محبت کی تلخ حقیقت، انداز شگفتگی، شائستگی، اور جاندار استعاروں کے استعمال کی وجہ سے وہ ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔
بانو قدسیہ 28 نومبر 1928ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور منتقل ہوئیں۔ انہوں نے 1951ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔ اشفاق احمد کی حوصلہ افزائی پر پہلا افسانہ ’’داماندگی شوق‘‘ 1950 میں منظر عام پر آیا، اور دسمبر 1956 میں بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کی شادی ہوئی۔
ناول ’’راجہ گدھ‘‘ کی وجہ سے بانو قدسیہ کو عالمی شہرت ملی، جبکہ دیگر مشہور تصانیف میں ’’بازگشت‘‘، ’’امربیل‘‘، ’’دوسرا دروازہ‘‘، ’’تمثیل‘‘ اور ’’حاصل گھاٹ‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے ٹی وی کے لیے کئی یادگار ڈرامے بھی تحریر کیے، جن میں ’’دھوپ جلی‘‘، ’’خانہ بدوش‘‘، ’’کلو‘‘ اور ’’پیا نام کا دیا‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔
بانو قدسیہ نے 27 کے قریب ناول، کہانیاں اور ڈرامے لکھے اور ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 2003ء میں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ اور 2010ء میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا۔
یہ عظیم ادیبہ 4 فروری 2017 کو وفات پا گئیں اور اردو ادب کے عاشقوں کے لیے یہ ایک ناقابلِ فراموش خلا چھوڑ گئیں۔
متعلقہ عنوانات
ایرانی گلوکارہ پرستو احمدی کو 74 کوڑوں کی سزا
19 June 2026
شازیہ منظور کا چاہت فتح علی خان پر دلچسپ ردعمل وائرل
19 June 2026
نعمان اعجاز کا شوبز کی کمائی پر تنقید کرنے والے صارف کو جواب
19 June 2026
ہالی ووڈ اداکارہ ڈیوگ چیس 35 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں
18 June 2026
مولانا طارق جمیل کو رولیکس گھڑی کا تحفہ، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل
18 June 2026
سنچیتا کہتی تھی سشانت کی طرح جان دوں گی، دوست کا لرزہ خیز انکشاف
18 June 2026
کالا ہرن تنازع، سلمان خان عدالت پہنچ گئے، گووند نامدیو کو قانونی نوٹس
17 June 2026
دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو سلام، طارق عزیز کو مداحوں سے بچھرے چھ برس بیت گئے
17 June 2026