LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے اعلیٰ سطحی اجلاس کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کابینہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، پی این ایس سی بورڈ کو مضبوط بنانے پر اتفاق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 59 روپے تک کمی ہوگی: اسحاق ڈار امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی پر اسلام آباد میں ‘آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش’ کا انعقاد؛ پاک آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان

معروف ناول نگار اور ڈرامہ نویس بانو قدسیہ کو بچھڑے 9 برس بیت گئے

Web Desk

4 February 2026

معروف ناول نگار اور ڈرامہ نویس بانو قدسیہ کو ہم سے بچھڑے 9 برس بیت گئے۔ اردو ادب میں محبت کی تلخ حقیقت، انداز شگفتگی، شائستگی، اور جاندار استعاروں کے استعمال کی وجہ سے وہ ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔

بانو قدسیہ 28 نومبر 1928ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور منتقل ہوئیں۔ انہوں نے 1951ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔ اشفاق احمد کی حوصلہ افزائی پر پہلا افسانہ ’’داماندگی شوق‘‘ 1950 میں منظر عام پر آیا، اور دسمبر 1956 میں بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کی شادی ہوئی۔

ناول ’’راجہ گدھ‘‘ کی وجہ سے بانو قدسیہ کو عالمی شہرت ملی، جبکہ دیگر مشہور تصانیف میں ’’بازگشت‘‘، ’’امربیل‘‘، ’’دوسرا دروازہ‘‘، ’’تمثیل‘‘ اور ’’حاصل گھاٹ‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے ٹی وی کے لیے کئی یادگار ڈرامے بھی تحریر کیے، جن میں ’’دھوپ جلی‘‘، ’’خانہ بدوش‘‘، ’’کلو‘‘ اور ’’پیا نام کا دیا‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔

بانو قدسیہ نے 27 کے قریب ناول، کہانیاں اور ڈرامے لکھے اور ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 2003ء میں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ اور 2010ء میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا۔

یہ عظیم ادیبہ 4 فروری 2017 کو وفات پا گئیں اور اردو ادب کے عاشقوں کے لیے یہ ایک ناقابلِ فراموش خلا چھوڑ گئیں۔