LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار ملک میں کاروباری اوقات کار میں اضافے کی سفارش صدر زرداری سے لندن میں محسن نقوی کی ملاقات، اہم پیغام پہنچایا وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں صدارتی محل آمد، گارڈ آف آنر پیش ایف سی بلوچستان ٹریننگ سینٹر خضدار میں بیسک ملٹری ٹریننگ بیچ 76 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ یوم دفاع و شہداء: پشاور کے تعلیمی اداروں میں پاک فوج کے زیراہتمام تقریبات ایئر ڈیفنس نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے میزائلوں کو ناکام بنا دیا: اردن پاسداران انقلاب کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں پر مشتبہ گاڑی چڑھ گئی، 4 افراد جاں بحق نیپال میں تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 1050 تک پہنچ گئیں، 4 ہزار افراد تاحال لاپتہ امریکا کی بچوں کے پاسپورٹ کے حصول کیلئے نئی تجویز پیش امریکی، روسی اور چینی صدور کی ایشیا پیسفک سربراہ کانفرنس کے موقع پر ملاقات متوقع امریکی صدر نے ہنگ کاؤ کو امریکا کا نیول سیکرٹری نامزد کردیا اسمبلیاں جب چاہیں گی دو تہائی اکثریت سے نئے صوبے بن جائیں گے: اعظم نذیر تارڑ روس کی یوکرین کو تنازع کے حل کیلئے ٹھوس مذاکرات کی پیشکش جوابی کارروائی میں امریکی فوج کے ایم کیو نائن ڈرون کو نشانہ بنایا گیا: پاسداران انقلاب

رجب بٹ سمیت چار افراد کے خلاف این سی سی آئی اے میں درخواست دائر

Web Desk

20 January 2026

معروف یوٹیوبر رجب بٹ سمیت چار دیگر یوٹیوبرز کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان نے ڈکی بھائی کے بھائی منیب کو اغواء کرنے کی منصوبہ بندی کی۔

درخواست کے مطابق، ملزمان میں حیدر علی، مان ڈوگر اور رجب بٹ شامل ہیں، جنہوں نے رجب بٹ کی گاڑی میں منیب کو زبردستی اغواء کیا۔ منیب کے منہ پر سیاہ کپڑا ڈالا گیا، اسے گاڑی میں قید کیا گیا اور بعد میں مرغیوں کے پنجرے میں بند کر دیا گیا۔ پورے واقعے کی ویڈیو حیدر علی نے ریکارڈ کی اور بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئی۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ڈکی بھائی نے قانونی کارروائی کے بجائے خود جا کر اپنے بھائی کو بازیاب کروایا اور اس عمل کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایسی وائرل ویڈیوز معاشرے میں لاقانونیت، تشدد اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کے لیے یہ گمراہ کن ہیں۔

مزید کہا گیا کہ ملزمان کے اقدامات عوامی اخلاقیات کے منافی، امن و امان کے لیے سنگین خطرہ اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، اور یہ قابلِ سزا جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔