LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے اعلیٰ سطحی اجلاس کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کابینہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، پی این ایس سی بورڈ کو مضبوط بنانے پر اتفاق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 59 روپے تک کمی ہوگی: اسحاق ڈار امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی پر اسلام آباد میں ‘آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش’ کا انعقاد؛ پاک آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان

رجب بٹ سمیت چار افراد کے خلاف این سی سی آئی اے میں درخواست دائر

Web Desk

20 January 2026

معروف یوٹیوبر رجب بٹ سمیت چار دیگر یوٹیوبرز کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان نے ڈکی بھائی کے بھائی منیب کو اغواء کرنے کی منصوبہ بندی کی۔

درخواست کے مطابق، ملزمان میں حیدر علی، مان ڈوگر اور رجب بٹ شامل ہیں، جنہوں نے رجب بٹ کی گاڑی میں منیب کو زبردستی اغواء کیا۔ منیب کے منہ پر سیاہ کپڑا ڈالا گیا، اسے گاڑی میں قید کیا گیا اور بعد میں مرغیوں کے پنجرے میں بند کر دیا گیا۔ پورے واقعے کی ویڈیو حیدر علی نے ریکارڈ کی اور بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئی۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ڈکی بھائی نے قانونی کارروائی کے بجائے خود جا کر اپنے بھائی کو بازیاب کروایا اور اس عمل کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایسی وائرل ویڈیوز معاشرے میں لاقانونیت، تشدد اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کے لیے یہ گمراہ کن ہیں۔

مزید کہا گیا کہ ملزمان کے اقدامات عوامی اخلاقیات کے منافی، امن و امان کے لیے سنگین خطرہ اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، اور یہ قابلِ سزا جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔