LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا بلیک میلنگ کیلئے استعمال ناقابلِ قبول : سعودیہ وزیرِ خارجہ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش ناقابل قبول، حرمین شریفین کی سلامتی سرخ لکیر ہے: وزیراعظم تربیتی مشق کے دوران بحری حادثہ: قازق بحریہ کے فرسٹ ڈپٹی کمانڈر سمیت 5 افسر گرفتار بلاول بھٹو سے چوہدری یاسین اور راجہ پرویز اشرف کی الگ الگ ملاقاتیں ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 11 افراد شہید، متعدد زخمی پی ٹی آئی کا ٹریک ریکارڈ درست نہیں، مجبوراً کنٹینرز لگا کر روکنا پڑتا ہے: گورنر پنجاب بیلاروس کی جدید طبی ٹیکنالوجی قابلِ تحسین ہے، چیئرمین سینیٹ سہیل آفریدی انتظامی طور پر فارغ، اب سیاسی طور پر بھی ہوچکے: عطا تارڑ بلوچستان میں شرپسندوں کا ڈیرہ بگٹی پر حملہ پسپا، 13 دہشت گرد مارے گئے بلوچستان کے ضلع دکی میں تعمیراتی کمپنی کے 18 مزدور اغوا، گارڈ شہید خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری بلدیات کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو بروقت اقدام ہے، وزیراعظم شہباز شریف ایک ہی الزام پر ایف آئی اے دوبارہ انکوائری نہیں کرسکتی: عدالت فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی

رجب بٹ سمیت چار افراد کے خلاف این سی سی آئی اے میں درخواست دائر

Web Desk

20 January 2026

معروف یوٹیوبر رجب بٹ سمیت چار دیگر یوٹیوبرز کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان نے ڈکی بھائی کے بھائی منیب کو اغواء کرنے کی منصوبہ بندی کی۔

درخواست کے مطابق، ملزمان میں حیدر علی، مان ڈوگر اور رجب بٹ شامل ہیں، جنہوں نے رجب بٹ کی گاڑی میں منیب کو زبردستی اغواء کیا۔ منیب کے منہ پر سیاہ کپڑا ڈالا گیا، اسے گاڑی میں قید کیا گیا اور بعد میں مرغیوں کے پنجرے میں بند کر دیا گیا۔ پورے واقعے کی ویڈیو حیدر علی نے ریکارڈ کی اور بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئی۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ڈکی بھائی نے قانونی کارروائی کے بجائے خود جا کر اپنے بھائی کو بازیاب کروایا اور اس عمل کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایسی وائرل ویڈیوز معاشرے میں لاقانونیت، تشدد اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کے لیے یہ گمراہ کن ہیں۔

مزید کہا گیا کہ ملزمان کے اقدامات عوامی اخلاقیات کے منافی، امن و امان کے لیے سنگین خطرہ اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، اور یہ قابلِ سزا جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔