LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے اعلیٰ سطحی اجلاس کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کابینہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، پی این ایس سی بورڈ کو مضبوط بنانے پر اتفاق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 59 روپے تک کمی ہوگی: اسحاق ڈار امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی پر اسلام آباد میں ‘آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش’ کا انعقاد؛ پاک آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان

عید کے لباس پر تنقید کے بعد علی ظفر نے قوم سے معافی مانگ لی

Web Desk

24 March 2026

لاہور: پاکستان کے معروف گلوکار اور اداکار علی ظفر نے عید کے موقع پر اپنے لباس اور انداز پر ہونے والی تنقید کا جواب ایک منفرد اور طنزیہ انداز میں دیا ہے۔ علی ظفر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں قوم سے “معافی” مانگتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں اس طرح کی “سنگین غلطی” نہ دہرانے کی پوری کوشش کریں گے۔

علی ظفر نے اپنے پیغام میں طنز کا سہارا لیتے ہوئے لکھا کہ وہ اس بات پر نادم ہیں کہ انہوں نے بغیر بنیان کے کرتا پہنا اور روایتی اجرک و دھوتی زیب تن کر کے پودوں کو پانی دینے کا “نہایت سنجیدہ فعل” انجام دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حالیہ دنوں میں سب کی زندگیوں پر اثر انداز ہونے والا ایک “انتہائی اہم قومی اور عالمی مسئلہ” رہا ہے، لہٰذا وہ اس پر توجہ دلانے کے لیے صارفین کے مشکور ہیں۔

اداکارہ ندا یاسر کے عید لُک پر ہونے والی حالیہ تنقید کے تناظر میں، علی ظفر کے اس بیان کو سوشل میڈیا ٹرولنگ کے خلاف ایک دلچسپ احتجاج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جہاں کچھ صارفین ان کے اس مزاحیہ انداز کو پسند کر رہے ہیں، وہیں کچھ کا ماننا ہے کہ فنکاروں کو عوامی جذبات اور روایات کا احترام کرنا چاہیے۔